شیطان کے چیلے — Page 246
245 جاءه صـگـه فـوضع عينه فرجع الى ربه فقال ارسلتنى الى عبد لا يريد الموت فردّ الله عليه عينه وقال ارجع فقل له يضع يده على متن ثور فله بكلّ ما غطت به يده بكل شعرة سنة قال اى ربّ ثم ماذا قال الموت۔( بخاری کتاب الصلوۃ باب من احب الدفن في الارض المقدسة مطع البيه مصر و بخاری کتاب بدء الخلق باب وفات موسیٰ وذکرہ بعدہ)۔نیز مسلم مطبع العامرہ مصری کتاب الفضائل باب فضائل موسیٰ۔نیز مشکوۃ باب بدء الخلق وذكر الانبیاء ) کہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ملک الموت حضرت موسی کے پاس بھیجا گیا جب وہ آیا تو موسیٰ نے اسے ایک طمانچہ مارا جس سے اس کی ایک آنکھ پھوٹ گئی۔پس وہ اپنے پروردگار کے پاس لوٹ گیا اور عرض کی کہ تو نے مجھے ایسے بندے کے پاس بھیجا جو مرنا نہیں چاہتا۔اللہ نے اس کی آنکھ دوبارہ عنایت کی اور ارشاد ہوا پھر جا کر ان سے کہو کہ وہ اپنا ہاتھ ایک بیل کی پیٹھ پر رکھیں۔پس جس قدر بال ان کے ہاتھ کے نیچے آئیں گے۔ہر بال کے عوض میں انہیں ایک ایک سال زندگی دی جائیگی۔حضرت موسی بولے اے پروردگار ! پھر کیا ہوگا اللہ نے فرمایا پھر موت آئیگی۔(ترجمه از تجرید بخاری اردو شائع کرده مولوی فیروز الدین اینڈ سنز لاہور ) پس ” ٹیچی تو محض ایک نام ہے۔مگر اپنی منطق کے مطابق تو یہ عمل عزرائیل کو بھی ( نعوذ باللہ ) کچھ وقت کے لئے کا نا مانتے ہیں۔2 حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ نہیں فرمایا کہ وہ فرشتہ تھا بلکہ فرمایا ہے کہ فرشتہ معلوم ہوتا تھا۔“ (مکاشفات صفحہ 38) نیز خواب میں اس فرشتہ نما انسان نے جو اپنا نام بتایا ہے وہ صرف ” ٹیچی ہے۔مگر راشد علی وغیرہ محض شرارت سے ٹیچی ٹیچی کہتے ہیں جو یہود کی مثل " يُحَرِّفُونَ الكَلِمَ عَن مَوَاضِعِه “ کا مصداق بنتا ہے۔3 حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کا یہ ترجمہ بیان فرمایا ہے کہ دو 66 پیچی پنجابی (زبان) میں وقت مقررہ کو کہتے ہیں۔یعنی عین ضرورت کے وقت آنے والا۔“ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 332) -4 اگر یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ وہ کوئی فرشتہ تھا تو اس پر کیا اعتراض ہے۔یہ تو ایک صفاتی نام ہے۔