شیطان کے چیلے — Page 2
2 (1) مختلف دعاوی اور ناموں پر اعتراض راشد علی اور اس کے پیر نے ایک جاہلانہ اور خبیثانہ استہزاء کرتے ہوئے زیر عنوان ” تھالی کے بینگن“ لکھا ہے۔غرضیکہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ خود کاشتہ پودا پروان چڑھتا رہا۔مرزا صاحب ایک کے بعد دوسری قلابازیاں کھاتے رہے۔مجد د بنے مسیح موعود بنے ، لارڈ کرشنا اور جے سنگھ بہادر بنے۔کبھی خدا تو کبھی خدا کا بیٹا ہونے کے الہام ہونے لگے، الغرض کبھی بنتے کبھی بگڑتے رہے۔کبھی مغل کبھی فارسی النسل کبھی اسرائیلی تو کبھی چینی۔جدھر جھکاؤ دیکھا تھالی کے بینگن کی طرح ادھر ہی لڑھک پڑے۔“ ( بے لگام کتاب ) دراصل یہ ایک استہزاء ہے جو راشد علی نے اپنے خبیث ذہن کی تھالی میں رکھ کر پیش کیا ہے۔ورنہ یہ باتیں ہرگز محل اعتراض نہیں ہیں۔راشد علی تو بظاہر پڑھا لکھا، ایک ڈاکٹر ہے جبکہ ایک ان پڑھ اور جاہلِ مطلق شخص بھیجانتا ہے کہ ایک انسان اپنی ذاتی حیثیت اور حسب ونسب اور رشتوں کے اعتبار سے کئی حیثیتوں اور کئی صفات کا حامل ہوتا ہے۔اگر یہ ڈاکٹری کی ڈگری حاصل کرنے اور MRCP بننے کے بعد اپنی ذات پر ہی غور کر لیتا تو ذہن پر کافی زور دینے سے اسے شاید یہ علم ہو ہی جاتا کہ وہ ایک ہی وقت میں ڈاکٹر بھی ہے اور MRCP کا مقام بھی اسے حاصل ہے۔وہ غالبا سید بھی ہے اور پنجابی بھی اور ساتھ ہی پاکستانی اور ایشین بھی اور فجیرہ میں رہنے کی وجہ سے فجیر وی یا فجوری بھی، وغیرہ وغیرہ۔چنانچہ جب وہ اچھی طرح اپنی ذاتی حیثیت پر غور کر لیتا تو پھر اسے یقین ہو جاتا کہ در حقیقت تھالی کا اصل بینگن تو وہ خود ہے۔مامور من اللہ، خدا تعالیٰ کے پاک مسیح اور مہدی علیہ السلام کو تو اس نے محض اپنے نفس کے آئینہ میں دیکھا ہے جو اسے اپنی ہی شکل نظر آئی ہے۔کیونکہ وہ کبھی ڈاکٹر ہے تو کبھی سید، کبھی پاکستانی اور کبھی۔۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ را شد علی اور اس کے پیر کی حالت پر ایک واقعہ یاد آ گیا کہ ایک مرتبہ سرور دو عالم حضرت محمد مصطفیٰ نے ایک بچے سے بڑے پیار سے پوچھا کہ تمہاری والدہ کا بھائی کون ہے؟ بچہ سوچ میں پڑ گیا تو آپ