شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 193 of 670

شیطان کے چیلے — Page 193

192 شرائط اور تفصیلات کے ساتھ لفظاً لفظاً پوری ہوئی۔نیز اس پیشگوئی کا مقصود بھی کماحقہ حاصل ہوا۔اس پیشگوئی پر اعتراض کا جواب را شد علی کو پہلے بھی کتاب Three in One میں دیا جا چکا ہے۔اس کے باوجود یہاں اس نے اسے دوبارہ پیش کیا ہے۔جس کا مقصد سنتِ مکذبین کے مطابق محض استہزاء ہے۔معززقارئین ! خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا تھا کہ فَلَمَّا قضى زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجُنگها (الاحزاب : 38) کہ جب زیڈ نے حضرت زینب کو طلاق دیدی تو ہم نے آپ کے ساتھ ( آسمان پر ) اس کا نکاح پڑھ دیا۔یہی کلمہ یعنی دو جنگها خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو محمدی بیگم کے بارہ میں الہام فرمایا۔وہاں شرائط کے تحقیق کے باعث حضرت زینب کا نکاح ہو گیا۔مگر پھر بھی مخالفین اس پر اعتراض کرنے سے باز نہ آئے اور آج تک اس پر ہرزہ سرائی کرتے ہیں۔یہاں شرائط کے عدم تحقق کی وجہ سے محمدی بیگم کا نکاح نہ ہوا، تو مخالفین اس پر بھی اعتراضات کرتے ہیں۔پس نکاح کا ہونا یا نہ ہونا باعث اعتراض نہیں بلکہ اس کا باعث وہ فطری بغض ہے جو روز اول سے معاندین و مکذبین کے شاملِ حال رہا ہے۔لیکن جہاں تک اہل بصیرت کا تعلق ہے انہوں نے اس پیشگوئی کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت وحقانیت کی ایک بین دلیل سمجھا اور آپ پر ایمان لائے۔حتی کہ اس خاندان سے تعلق رکھنے والے بیسیوں افراد بھی حلقہ بگوشِ احمدیت ہوئے۔مگر راشد علی اور ” علماء ہم اپنے شیوہ استہزاء و تمسخر سے باز نہ آئے۔اس پیشگوئی کے بارہ میں یہ بات مد نظر رکھنی چاہئے کہ یہ ایک وعیدی پیشگوئی تھی جو لازماً تو بہ اور رجوع سے مشروط تھی۔اور اس کا اصل مقصود متعلقہ لوگوں کے لئے عبرت اور اصلاح کے سامان مہیا کرنا تھا۔پیشگوئی کا پس منظر اس پیشگوئی کا سبب محمدی بیگم کے والد مرزا احمد بیگ اور اس کے دوسرے رشتہ دار تھے۔یہ لوگ چا کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بھی رشتہ دار تھے۔ان کی حالت حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی کتاب ” آئینہ کمالات اسلام میں یوں بیان فرماتے ہیں: ” خدا تعالیٰ نے میرے چیرے بھائیوں اور دوسرے رشتہ داروں ( احمد بیگ وغیرہ) کو ملحدانہ