شیطان کے چیلے — Page 63
63 ہی یہ خوبی اپنے اندر رکھتا ہے کہ وہ بشرط نیچی اور کامل اتباع ہمارے سید مولی آنحضرت ہ کے مکالمات الہیہ سے مشرف کرتا ہے۔اسی وجہ سے تو حدیث میں آیا ہے کہ علماء امتی کا نبیاء بنی اسرائیل یعنی میری امت کے علماء ربانی بنی اسرائیل کے نبیوں کی طرح ہیں۔اس حدیث میں بھی علماء ربانی کو ایک طرف امتی کہا اور دوسری طرف نبیوں سے مشابہت دی ہے۔“ الله (براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 354) حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ تحریر کسی طرح بھی اعتراض کا نشانہ نہیں بن سکتی۔آپ نے بڑے زور کے ساتھ ثابت کیا ہے کہ اسلام میں یہ خوبی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ سے ہمکلام کراتا ہے اور اب ہمارے سید و مولی رسول کریم ﷺ کی کامل اور تیچی اتباع سے خدا تعالیٰ انسان سے کلام کرتا ہے۔مگر راشد علی کا تو کام ہی ہر حال میں سچ کو دبانے کی کوشش کرنا ہے ، خواہ وہ اصل عبارتیں چھپا کر یہودیانہ خصلت کا ہی مرتکب کیوں نہ ہو۔اسی لئے اس نے آدھی عبارت پیش کی اور انگلی عبارت جو اسلام کی زندگی کا ثبوت مہیا کرتی تھی اس پر ہاتھ رکھ لیا۔پس راشد علی کا جھوٹ اور دجل واضح ہے۔قارئین سے اس کا فریب ، اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریروں سے اس کی بدیانتی اظہر من الشمس ہے۔جہاں تک اسلام کی سچائی ، اس کی حقانیت ، اس کی زندگی ، اس کی قوت احیاء اور عظمت کا تعلق ہے، اس کا اظہار اور اس کا ثبوت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریروں میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔آپ اس کا ثبوت دیتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: قرآن شریف نے باوجود اس کے کہ اس کے عقائد کو دل مانتے ہیں اور ہر ایک پاک کانشنس قبول کرتا ہے پھر بھی ایسے معجزات پیش نہیں کئے کہ کسی آئندہ صدی کے لئے قصوں اور کہانیوں کے رنگ میں ہو جائیں بلکہ ان عقائد پر بہت سے عقلی دلائل بھی قائم کئے اور قرآن میں وہ انواع واقسام کی خوبیاں جمع کیں کہ وہ انسانی طاقتوں سے بڑھ کر مجزہ کی حد تک پہنچ گیا اور ہمیشہ کے لئے بشارت دی کہ اس دین کی کامل طور پر پیروی کرنے والے ہمیشہ آسمانی نشان پاتے رہیں گے۔چنانچہ ایسا ہی ہوا اور ہم یقینی اور قطعی طور پر ہر ایک طالب حق کو ثبوت دے سکتے ہیں کہ ہمارے سید و مولا آنحضرت ﷺ کے زمانہ سے آج تک ہر ایک صدی میں ایسے با خدا لوگ ہوتے رہے ہیں جن کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ غیر قوموں کو آسمانی نشان دکھلا