شیطان کے چیلے — Page 57
57 ان احادیث میں جھوٹ کا پھیل جانا، مسلمانوں کا یہود کے مشابہ ہو جانا، قرآن کے صرف حروف کا باقی رہ جانا اور اسلام کا صرف نام باقی رہ جانا۔یہی وہ باتیں ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بیان فرمائی ہیں کہ اسلام سے اگر خدا تعالیٰ کے ساتھ زندہ تعلق نکل جائے تو اس کا صرف نام باقی رہ جاتا ہے۔قرآن کریم سے مسلمانوں کا عمل اٹھ جائے تو اس کے صرف حروف باقی رہ جاتے ہیں۔وغیرہ وغیرہ۔یہ وہ باتیں ہیں جن میں حضرت اقدس محمد مصطفی اللہ نے خود آخری زمانہ میں امت میں ظاہر ہونے والے فسادات کا بڑی تفصیل سے نقشہ کھینچا ہے۔ان باتوں کو ہدف ملامت بنانے والا کم بخت خود کیا کہلائے گا؟ جہالت اور حماقت جب مرکب ہوتی ہے تو ایسے ایسے شیطانوں کو جنم دیتی ہے جو حملہ کرتے وقت یہ بھی نہیں سوچتے کہ اس کا رخ کس طرف ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ بگڑے ہوئے مسلمانوں کے گمراہ کن عقائد کی وجہ سے اسلام کی جس حالت کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا ہے اور پھر اس کا علاج بھی بتایا ہے۔اسی حالت کا بلکہ اس سے بہت بڑھ کر بُری حالت کا رونا مسلمان اکابرین نے خوب رویا ہے۔لیکن اس کا علاج نہیں بتایا۔چنانچہ آئیں، جائزہ لیتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ کون کون سے مسلمان، راشد علی کے اس لا یعنی اعتراض کے نیچے آتے ہیں جو اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر باندھا ہے۔ا۔مولانا الطاف حسین حالی مرحوم نے 1879ء میں اپنی مشہور مسدس میں لکھا۔وو ربادین باقی نہ اسلام باقی اک اسلام کا رہ گیا نام باقی“ پھر اسلام کو ایک باغ سے تشبیہہ دے کر فرماتے ہیں۔(مسدس حالی بند نمبر 108 ) پھر اک باغ دیکھے گا اجڑا سراسر جہاں خاک اڑتی ہے ہر برابر نہیں زندگی کا کہیں جس پر ہری ٹہنیاں جھڑ گئیں جس کی جل کر