شیطان کے چیلے — Page 623
620 ” اور کیا اس کتاب کے پڑھنے سے یہ نتیجہ نہیں نکلتا کہ مسیح علیہ السلام کے صلیب کے وقت تمام لوگ اس بات پر اتفاق نہیں رکھتے تھے کہ حضرت مسیح صلیب پر فوت ہو گئے ؟“ یاستفہامیہ فقرہ ایک تاریخی حقیقت پر مبنی ہے جسے الیاس ستار نے جان بوجھ کر درج نہیں کیا اور اگر اس میں کوئی بھی نہ ہوتی اور واقعہ وہ جماعت احمدیہ سے علمی مقابلہ کی اہلیت رکھتا ہوتا تو وہ یہ تحقیق کر کے ثابت کرتا کہ برنباس کی اس انجیل کے پڑھنے سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی کہ صلیب کے وقت تمام لوگ اس بات پر اتفاق نہیں رکھتے تھے کہ حضرت عیسی صلیب پر فوت ہو گئے۔برنباس کی انجیل تو ان کے اپنے بنیادی مسلک کی دھجیاں بکھیر رہی ہے اور وہ اس پر ایمان و تقلید کی بنیاد رکھ کر مامور من اللہ اور امام الزمان علیہ السلام پر حملہ کر رہا ہے۔انجیل برنباس واقعہ صلیب کے بعد حضرت عیسی کی اس کرہ ارض پر زندگی کا بین ثبوت ہے اور حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ کی اس مذکورہ بالا تحریر کی صداقت پر مہر تصدیق ثبت کرتی ہے۔انجیل برنباس میں مذکور حسب ذیل فقرہ کہ یسوع نے جواب دیا کہ اس کے بعد خدا کے بھیجے ہوئے نبی نہیں آئیں گے مگر جھوٹے نبیوں کی بڑی تعداد آئے گی۔“ اس پر الیاس ستار بہت خوش ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی سچا نبی نہیں آسکتا۔لیکن وہ اگر ذرا عقل سے کام لیتا تو اس پر یہ واضح ہو جاتا کہ یہ فقرہ صرف اور صرف خود انہی کے لئے موت کا تازیانہ ہے، ہمارے لئے تو اس کا مفہوم وہی ہے جو آنحضرت ﷺ کی حدیث لا نبی بعدی “ کا ہے اور اس کی تشریح بھی وہی درست ہے جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان فرمائی۔اس مفہوم اور تشریح کے برخلاف نہ تو برنباس کے ترجمہ کی کوئی حیثیت باقی رہتی ہے اور نہ ہی اس کی کسی تشریح کی۔حضرت عائشہ نے جو مفہوم بیان فرمایا ہے اور پھر اس کے مطابق آئمہ سلف نے جو تشریحات بیان کی ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے کے آنحضرت ے کے بعد تشریعی نبوت کلیۂ بند ہے لیکن غیر تشریعی نبوت جو آپ ﷺ کی اتباع میں آپ کے امتی کومل سکتی ہے، ہرگز بند نہیں ہوئی۔پس تشریعی اور مستقل نبوت کے بارے میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ” نبی بعدی، یعنی میرے بعد کوئی نبی شرع جدید لیکر نہیں آئے گا۔چنانچہ حسب ذیل آئمہ سلف اور بزرگانِ امت اپنے اسی مسلک کو بیان کرتے ہیں جو جماعت احمدیہ کا ہے۔الله