شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 618 of 670

شیطان کے چیلے — Page 618

615 محدود ذہن، ٹیڑھی سوچ اور مسخ شدہ عقائد کے پیمانے پر پرکھ کر ہدف استہزاء بنایا ہے۔نیز اپنے خود ساختہ فارمولے پر انبیاءعلیہم السلام کی عمروں کوضر ہیں تقسیمیں دے دے کر اور اس پر بازاری طرز پر ہائے 120، ہائے 120 کے سوقیانہ نعرے لگا لگا کر اس پر معارف حدیث نبوی کا مذاق اڑایا ہے۔اس سے بڑھ کر افسوس ان نام نہاد علماء پر ہے جو الیاس ستار کے اس استہزاء اور مذاق کو الہامی مضمون قرار دیتے ہیں۔(ویسے یہ لوگ آنحضرت لوہے کے بعد نزول الہام کے منکر بھی ہیں۔یعنی یہ ہر طرف سے جھوٹے ہیں) (7) برنباس کی انجیل پر الیاس ستار کا تکیہ الیاس ستار نے اپنے ایک رسالہ میں لکھا ہے کہ یہ ایک الگ بحث ہے کہ حضرت عیسی" خود صلیب پر چڑھے تھے یا یہودا اسکر یوتی۔؟ ہم صرف اتنا ثابت کر رہے ہیں کہ جو بھی صلیب پر چڑھا تھا وہ دو گھنٹے میں کیوں مر گیا تھا؟ برناباس کی انجیل میں صفحہ 276 پر حوالہ 216 تا 217 کا مفہوم ہے کہ یہودا اسکر یوتی جو عیسی علیہ السلام کے شاگردوں کے ساتھ تھا لیکن پیسے کے لالچ میں آکر یہودیوں سے تمیں سونے کے سکتے لے کر یہودی سپاہیوں کو لے کر حضرت عیسی علیہ السلام کو پکڑوانے کے لئے گیا۔جب وہ پہنچے تو حضرت عیسی علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے تیسرے آسمان پر اٹھوا لیا اور یہودا اسکریوتی کی شکل حلیہ اور آواز حضرت عیسی جیسی بنادی یہاں تک کہ شاگرد بھی انہیں عیسی" ہی سمجھ رہے تھے۔یہودی سپاہیوں نے یہودا اسکر یوتی کو عیسی" سمجھ کر گرفتار کر لیا اس کی خوب پٹائی کی اسے کوڑوں سے اتنا مارا کہ وہ اسی وقت مر جا تا لیکن اللہ تعالیٰ نے اسے صلیب کی موت کے لئے بچار کھا تھا تا کہ وہ وہی خوف ناک موت مرے جس کے لئے اس نے حضرت عیسی کو بیچا اس لئے صلیب پر کم وقت میں یعنی دو گھنٹے سے قبل اس کی موت واقع ہو گئی۔“ قارئین کرام ! الیاس ستار کو شاید یہ معلوم نہیں کہ ان لوگوں کی مسلمہ تفاسیر میں اس شخص کے بارہ میں کثرت سے اختلاف پایا جاتا ہے کہ صلیب پر یہودا اسکر یوتی چڑھایا گیا تھا یا کوئی اور یہودی۔آج تک اس شخص کے بارہ میں کسی ایک رائے پر اتفاق نہیں ہوا۔لیکن الیاس ستار نے اچھا کیا کہ اپنے عقائد کے علی