شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 612 of 670

شیطان کے چیلے — Page 612

609 باگیں تڑوا تا ہے۔مولوی محمد حسین بٹالوی بھی جھوٹا تھا جو جماعت احمدیہ کی تکذیب میں اپنی ہر کوشش میں ہمیشہ ناکام و نامرادر ہا، اسی طرح یہ بھی ہمیشہ نا کام ونامراد ہے۔حقیقت یہ ہے کہ سچائیوں اور عقائد کی رائلٹی پیسوں کی صورت میں نہیں ہوا کرتی۔ہمارے آقاو مولیٰ حضرت محمد مصطفے ﷺ سے پہلے خزاعہ قبیلہ کا ایک شخص ” ابن ابی کبشہ “ ہوا کرتا تھا جو قریش کو بت پرستی سے روکتا تھا اور توحید کا پرچار کیا کرتا تھا۔چنانچہ اسی مشابہت کی بناء پر ابوسفیان نے بادشاہ ھر قل کے دربار میں آنحضرت ﷺ کو ابنِ ابی کبشہ قرار دیتے ہوئے یہ کہا تھا۔"لقد أمِرَ امْر ابن ابى كبشة “ (بخاری۔کتاب الوحی۔باب کیف کان بدء الوحی۔مطبوعہ حامد اینڈ کمپنی لاہور ) کہ ابن ابی کبشہ یعنی آنحضرت ﷺ کا معاملہ بہت آگے نکل چکا ہے۔اب اگر الیاس ستار کا رائلٹی کا تقاضا درست تسلیم کر لیا جائے تو اس کے مطابق تو آنحضرت علی کو توحید کے عقیدہ کی رائلٹی ابنِ ابی کبشہ کو دینی چاہئے تھی ( نعوذ باللہ من ذالک)۔اسی طرح قرآنِ کریم صلى الله میں خدا تعالیٰ کا آنحضرت ﷺ کو یہ ارشاد ہے کہ فَبهُدَاهُمُ اقْتَدِه (الانعام: 91) اے محمد ! ( تو ان (گزشتہ انبیاء ) کی ہدایتوں کی بھی پیروی کر۔تو کیا آنحضرت ﷺ کو الیاس ستار کے اصول کے مطابق گزشتہ انبیاء علیہم السلام کو ان ہدایتوں کی رائلٹی دینی چاہئے تھی ؟ ( نعوذ باللہ من ذالک)۔پس نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ الیاس ستار نے محض ایک فضول ، لا یعنی اور لغو بات کی ہے۔(6) حدیث نبوی کی تضحیک الیاس ستار نے اپنے پمفلٹ اور رسالوں میں متعدد بار حضرت مرزا بشیرالدین محمود احمد خلیفة المسح الثانی رضی اللہ عنہ کی کتاب ”دعوۃ الامیر کے صفحہ 16 سے حسب ذیل اقتباس میں مذکورہ حدیث پر تضحیک کی ہے۔وہ پورا اقتباس پیش ہے۔فرمایا دو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی مروی ہے کہ آپ نے حضرت فاطمہ سے اس مرض میں