شیطان کے چیلے — Page 611
608 (5) وو وفات مسیح کا معاوضہ الیاس ستارا اپنے پمفلٹ " کیا احمدی جواب دے سکتے ہیں، میں لکھتا ہے کہ کیا مرزا صاحب نے سرسید کو رائلٹی ( معاوضہ ) دی تھی ؟“ اس کے بعد وہ لکھتا ہے کہ (صفحه 21) آپ کو یہ سن کر حیرت ہوگی کہ مرزا صاحب پہلی شخصیت نہیں جنہوں نے حضرت عیسی کی وفات کے متعلق کہا کہ وہ مر چکے ہیں اور دنیا سے چلے گئے ہیں۔بلکہ سرسید ان سے قبل اپنی تفسیر القرآن میں یہ ترجمہ کر چکے ہیں کہ عیسی قدرتی طور پر فوت ہو چکے ہیں۔“ معزز قارئین! اگر سرسید صاحب نے وفات مسیح علیہ السلام کو ثابت کیا ہے تو الیاس ستار کو یہ سچائی مان لینی چاہئے تھی کہ حضرت عیسی علیہ السلام از روئے قرآن طبعی وفات پاچکے ہیں۔کیونکہ سرسید احمد خان صاحب بر صغیر میں مسلمانوں کے ایک بہت بڑے مذہبی اور سیاسی لیڈر قرار دیئے جاتے تھے۔پس ان پر ایسے لیڈر کی بات کو ماننا فرض تو بنتا ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ اس میں حیرت کی کونسی بات ہے کہ سرسید صاحب نے بھی حضرت عیسی علیہ السلام کی طبعی موت کے ثبوت پیش کئے تھے۔کیونکہ وفات مسیح علیہ السلام ایک ایسی ثابت شدہ سچائی ہے جس کا اعلان اولاً تو قرآنِ کریم نے بار بار کیا ہے بلکہ کم از کم تھیں بار کیا ہے۔پھر آنحضرت ﷺ نے بھی بار بار اس کی منادی فرمائی۔پھر حضرت ابو بکر اور دیگر صحابہ رضوان اللہ علیہم کے علاوہ آئمہ سلف اور بزرگان وعلمائے دین نے بھی اسے ثابت کیا ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام کی وفات ایک سچائی ہے جس کو اگر سر سید احمد خان صاحب نے بھی اختیار کیا تھا تو اس پر ان کا رائلٹی کا حق کیسے قائم ہو گیا۔اگر اس طرح رائلٹی کا حق قائم ہوتا ہے تو الیاس ستارکو جماعت احمدیہ کی مخالفت کرنے کی رائلٹی مولوی محمد حسین بٹالوی کو ادا کرنی چاہئے۔ان کی جو تیاں بھی عدالتوں کے چکر لگا گا کر گھس گئیں اور ادھر یہ بھی ہر بات میں عدالت کی طرف جانے کے لئے