شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 591 of 670

شیطان کے چیلے — Page 591

588 چوتھی عبارت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب "کشتی نوح کی ہے جس کا حوالہ الیاس ستار بار بار دیتا ہے اور اسے مذکورہ بالا کتب کی زیر بحث عبارتوں سے متناقض و متصادم قرار دیتا ہے۔اس نے اس عبارت کا صرف حوالہ ہی دیا ہے وہ عبارت تحریر نہیں کی۔بہر حال اس مضمون کی جو عبارت «کشتی نوح“ میں ہے اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: جس وقت حضرت عیسی علیہ السلام پر کفر کا فتویٰ لکھا گیا۔اس وقت وہ پولوس بھی مکفرین کی جماعت میں داخل تھا جس نے بعد میں اپنے تئیں رسول مسیح کے لفظ سے مشہور کیا۔یہ شخص حضرت مسیح کی زندگی میں آپ کا سخت دشمن تھا۔جس قدر حضرت مسیح کے نام پر انجیلیں لکھی گئی ہیں ان میں سے ایک میں بھی پیشگوئی نہیں ہے کہ میرے بعد پولوس تو بہ کر کے رسول بن جائے گا۔اس شخص کے گزشتہ چال چلن کی نسبت لکھنا، ہمیں کچھ ضرورت نہیں کہ عیسائی خوب جانتے ہیں۔افسوس ہے کہ یہ وہی شخص ہے جس نے حضرت مسیح کو جب تک وہ اس ملک میں رہے بہت دکھ دیا تھا اور جب وہ صلیب سے نجات پا کر کشمیر کی طرف چلے آئے تو اس نے ایک جھوٹی خواب کے ذریعہ سے حواریوں میں اپنے تئیں داخل کیا اور تثلیث کا مسئلہ گھڑا اور عیسائیوں پر سو ر کو جو توریت کے رو سے ابدی حرام تھا۔حلال کر دیا اور شراب کو بہت وسعت دیدی اور انجیلی عقیدہ میں تثلیث کو داخل کیا تا ان تمام بدعتوں سے یونانی بت پرست خوش ہو جائیں۔“ کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 65 حاشیہ ) وو 66 اس تحریر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انتہائی غیر مبہم الفاظ میں یہ تحریر فرمایا ہے کہ یہ وہی شخص ہے جس نے حضرت مسیح کو جب تک وہ اس ملک میں رہے بہت دکھ دیا تھا اور جب وہ صلیب سے نجات پاکر کشمیر کی طرف چلے آئے تو اس نے جھوٹی خواب کے ذریعہ سے حواریوں میں اپنے تئیں داخل کیا۔۔۔“ قارئین کرام : به تاریخی حقیقت ہے جو قرآن کریم اور احادیث نبویہ میں بیان شدہ حقائق کے عین مطابق ہے اور ان کی سچائی کی نمایاں تصدیق کرتی ہے۔اس عبارت کا نہ تو کتب ”نجام آتھم “ اور ” مسیح ہندوستان 66 وو میں کی عبارتوں سے کوئی اختلاف ہے۔اور نہ ہی عیسائیوں اور یہودیوں کے مسلمات کی رو سے ان کے رد