شیطان کے چیلے — Page 573
570 (1) عیسی علیہ السلام، پولوس اور شرک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تضاد سے بالا تحریریں الیاس ستار نے اپنے پمفلٹ " کیا احمدی قادیانی جواب دے سکتے ہیں، میں صفحہ ے سے صفحہ 31 تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب ”چشمہ مسیحی مسیح ہندوستان میں“ اور ” انجام آتھم کے بعض اقتباسات کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ان تحریروں میں تضاد ہے۔اس بحث کو اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تکذیب کا جواز بنا کر بار بار اپنے رسالوں وغیرہ میں بھی اچھالا ہے اور راشد علی نے بھی اسے انٹرنٹ پر بڑے طمطراق کے ساتھ پیش کیا ہے۔چونکہ اس بحث کا جواب ایک تفصیل کا متقاضی ہے اسلئے پہلے ہم اس کا پورا اعتراض بیان کریں گے پھر اس کا جواب ہدیہ قارئین کریں گے۔چنانچہ وہ کہتا ہے کہ ”مرزا صاحب نے اس بات کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام دنیا میں فوت ہو گئے۔اس سلسلے میں انہوں نے ایک کتاب ” مسیح ہندستان میں لکھی۔اس کتاب میں انہوں نے لکھا کہ حضرت عیسی کو 33 سال کی عمر میں صلیب پر چڑھایا گیا اور 120 سال کی عمر میں وہ سرینگر کشمیر میں فوت ہوئے۔مرزا صاحب کے تحت وہ صلیب پر بے ہوش ہو گئے تھے۔انہیں مردہ سمجھ کر دفن کر دیا گیا۔لیکن 3 دن بعد وہ ہوش میں آئے۔قبر سے نکلے۔شاگردوں سے ملے اور خفیہ ہجرت کر کے سرینگر تک پہنچے۔صلیب کہ واقعہ کہ بعد 87 سال زندہ رہے۔(120-33=87) مرزا صاحب " مسیح ہندستان میں صفحہ 55 پر لکھتے ہیں: صفحہ:55 سو میں اس کتاب میں یہ ثابت کروں گا کہ حضرت مسیح علیہ السلام مصلوب نہیں ہوئے اور نہ آسمان پر گئے اور نہ کبھی امید رکھنی چاہئے کہ وہ پھر زمین پر آسمان سے نازل ہوں گے بلکہ وہ 120 برس کی عمر پا کر کشمیر میں فوت ہو گئے اور سرینگر محلہ خان یار میں ان کی قبر ہے۔“ صفحہ 14: