شیطان کے چیلے — Page 574
571 اب ظاہر ہے کہ اگر وہ (33) برس کی عمر میں آسمان پر اٹھائے جاتے ! حضرت عیسی 120 سال کی عمر میں فوت ہوئے۔اس کا مطلب ہے کہ وہ 120 ء میں فوت ہوئے کیونکہ موجود ہ 1995ء کی ابتداء حضرت عیسی کی پیدائش سے ہوئی۔اب غور کریں اس بات پر جو مرزا صاحب نے انجام انتم میں لکھا ہے صفحہ (321) قرآن شریف صاف کہتا ہے کہ مسیح وفات پا کر آسمان پر اٹھایا گیا لہذا اس کا نزول بروزی ہے نہ کہ حقیقی اور آیت فلما توفیتنی میں صریح ظاہر کیا گیا ہے کہ واقعہ وفات حضرت عیسی وقوع میں آ گیا کیونکہ اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ عیسائی عیسی کی وفات کہ بعد بگڑیں گے نہ کہ ان کی زندگی میں۔پس اگر فرض کر لیں کہ اب تک حضرت عیسیٰ فوت نہیں ہوئے تو ما نا پڑے گا کہ عیسائی بھی اب تک نہیں بگڑے اور یہ صریح باطل ہے۔بلکہ آیت تو بتلاتی ہے کہ عیسائی صرف مسیح کی زندگی تک حق پر قائم رہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ حواریوں کہ عہد میں ہی خرابی شروع ہو گئی تھی۔اگر حواریوں کا زمانہ بھی ایسا ہوتا کہ اس زمانے میں بھی عیسائی حق پر قائم ہوتے تو خدا تعالیٰ اس آیت میں صرف مسیح کی زندگی کی قید نہ لگا تا بلکہ حواریوں کی زندگی کی بھی قید لگا دیتا۔پس اس جگہ سے ایک نہایت عمدہ نکتہ عیسائیت کہ زمانہ فساد کا معلوم ہوتا ہے اور وہ یہ کہ درحقیقت حواریوں کہ زمانے میں ہی عیسائی مذہب میں شرک کی تخم ریزی ہو گئی تھی۔او پر دی گئی عبارت میں مرزا صاحب فرمارہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔(۱) عیسائی صرف حضرت عیسی کی زندگی تک حق پر قائم رہے۔حضرت عیسی کو خدا یا خدا کا بیٹا ان کی زندگی میں نہیں بنایا گیا۔(۲) شرک تو شرک ، اس کی تخم ریزی بھی حضرت عیسی علیہ السلام کے فوت ہونے کے بعد ہوئی۔جب تک حضرت عیسی علیہ السلام زندہ تھے تب تک شرک کی تخم ریزی کی بھی گنجائش نہیں تھی۔مرزا صاحب کہتے ہیں اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں صرف عیسی کی زندگی کی قید لگائی۔(۳) کیونکہ مرزا صاحب کی کتاب ” مسیح ہندوستان میں“ کے مطابق حضرت عیسی علیہ السلام 120ء میں فوت ہوئے تو شرک کی تخم ریزی ۰۲۱ ۶ کہ بعد ہوئی نہ کہ پہلے۔120ء سے پہلے شرک کی تخم ریزی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔(۴) ہائے 120 ہائے120 ہاے120 ہائے120 اب غور فرمائیں مرزا صاحب کی بات پر جو وہ چشمہ مسیحی میں لکھتے ہیں: غرض اس مذہب میں تمام خرابیاں پولوس سے پیدا ہوئیں۔حضرت مسیح تو بے نفس انسان تھے جنہوں نے یہ بھی (چشمه سیحی۔صفحہ 375) نہ چاہا کہ کوئی ان کو نیک انسان کہے مگر پولوس نے ان کو خدا بنا دیا۔“ وو اور اس نے پہلے پہل تثلیث کا خراب پودہ دمشق میں لگا یا اور یہ پولوی تثلیث دمشق سے ہی شروع ہوئی۔اسی