شیطان کے چیلے — Page 34
34 ایک دوزخ کو برداشت کرنا پڑتا ہے مگر دراصل وہ دوزخ نہیں ، جنت ہے۔اور اُن کے ساتھ روٹیوں کے پہاڑ اور پانی کی نہر تو ایک بین بات ہے جس کی تشریح کی ضرورت نہیں۔اور دقبال کے گدھے سے جس کا طول کم و بیش ستر گز ہے، عام ظاہری گدھا مراد نہیں بلکہ اس سے جدید طرز کی سواریاں مراد ہیں جو ان لوگوں کی ایجاد کردہ ہیں۔اب دیکھیں کہ کس طرح یہ تمام باتیں ان میں پائی جاتی ہیں اور یہ جو کہا گیا کہ دقبال آخری زمانہ میں خروج کرے گا تو اس سے یہ مراد ہے کہ گو وہ پہلے سے موجود ہو گا مگر پہلے وہ اپنے وطن میں گویا محصور ہو گا لیکن موعود وقت پر وہ زور کے ساتھ باہر نکلے گا اور تمام روئے زمین پر چھا جائے گا۔بعینہ اسی طرح ہوا کہ مغربی قو میں پہلے اپنے محدود وطنوں میں سوئی پڑی تھیں۔مگر اب بیدار ہو کر تمام روئے زمین پر چھا گئی ہیں۔آنحضرت اللہ نے تو دجال کو ایک آدمی کی شکل میں دیکھا تھا۔اسے ایک جماعت یا گروہ قرار دینے کی وجہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یہ نظارے بصورت کشف اور خواب دیکھے تھے جیسا کہ مثلاً حدیث بخاری کتاب الفتن باب ذکر الہ جال کے بعض الفاظ یعنی بَيْنَمَا أَنَا نَائِمٌ أَطُوْفُ بِالْكَعْبَةِ يعنى میں نے خواب میں کعبہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا“ کے الفاظ سے ظاہر ہے۔اور ظاہر ہے کہ خواب عموما تاویل طلب ہوتی ہے اور اس میں کئی دفعہ ایک فرد دکھایا جاتا ہے مگر مراد ایک جماعت ہوتی ہے مثلاً سورہ یوسف میں آتا ہے کہ عزیز مصر نے سات سالہ قحط کے متعلق سات دہلی گائیں دیکھیں۔جس کی تعبیر ی تھی جیسا کہ حضرت یوسف نے خود بیان کیا ہے کہ ایک گائے ایک سال کے تمام مویشیوں بلکہ تمام جانداروں کے قائم مقام ہے اور اس کا دبلا ہونا قحط کو ظاہر کرتا ہے اور سات دبلی گائیوں کا ہوناسات سالہ قحط کو ظاہر کرتا ہے۔گویا ایک گائے تمام مویشیوں کے قائم مقام ہو کر دکھائی گئی اسی طرح آنحضرت ﷺ کود قبال کا نظارہ ایک آدمی کی شکل میں دکھایا گیا۔پس اسے ایک گروہ یا جماعت قرار دینے کی وجوہات یہ ہیں کہ (1) لغت میں دجال ایک بڑی جماعت کو کہتے ہیں۔پس وہ ایک فرد نہیں ہوسکتا۔(۲) جو فتنے دجال کی طرف منسوب کئے گئے ہیں اور جو طاقتیں اس کے اندر بیان کی گئی ہیں ان کا ایک فرد واحد میں پایا جانا عقلاً محال ہے۔(۳) دجال کی کیفیت جن الفاظ میں بیان کی گئی ہے اس پر غور کرنے سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس