شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 33 of 670

شیطان کے چیلے — Page 33

33 33 اپنی سیر و سیاحت سے قطع کرلیا ہو۔چوتھے۔دجال کے معنی بڑے مالدار اور خزانوں والے کے ہیں کیونکہ دجال سونے کو کہتے ہیں۔پانچویں۔دقبال ایک بڑے گروہ کو کہتے ہیں الَّتِی تُغَطّى الْأَرْضَ بِكَثْرَةِ أَهْلِهَا جو اپنے اہل کی کثرت سے روئے زمین کو ڈھانک لے۔چھٹے۔دجال اس گروہ کو کہتے ہیں ، الَّتِي تَحْمِلُ الْمَتَاعَ لِلْتِجَارَةِ - جواموال تجارت اٹھائے پھرے۔یہ تمام معنی لغت کی نہایت مستند اور مشہور اور مبسوط کتاب ” تاج العروس میں بیان ہوئے ہیں پس ان معنوں کے لحاظ سے دجال کے جامع معنے ہوئے کہ ایک کثیر التعداد جماعت جو تجارت پیشہ ہو۔اور اپنا تجارتی سامان دنیا میں اٹھائے پھرے اور جو نہایت مالدار اور خزانوں والی ہو اور جو تمام دنیا کو اپنی سیر و سیاحت نیز تسلط سے قطع کر رہی ہو اور ہر جگہ پہنچی ہوئی ہو اور گویا کوئی جگہ اس سے خالی نہ رہی ہو اور وہ مذہب کے لحاظ سے ایک نہایت جھوٹے عقیدہ پر قائم ہو۔66 اس جامع مفہوم کے ساتھ اُس کیفیت کو ملایا جائے جو حدیث نبوی میں بیان ہوئی ہے اور جس کو اختصار سے اوپر درج کیا گیا ہے تو عقل فوراً اور بلا تامل یہ فیصلہ کرتی ہے کہ دجال سے مراد مغربی ممالک کی مسیحی اقوام ہیں جو اس زمانہ میں تمام روئے زمین پر چھا گئی ہیں اور جن میں تمام مذکورہ بالا حالات پائے جاتے ہیں۔ان کا یک چشم ہونا ان کی مادیت ہے جس نے ان کے دین کی آنکھ کو بند کر رکھا ہے۔ہاں ان کی دنیا کی آنکھ خوب کھلی اور روشن ہے۔ان کی آنکھوں کے درمیان کا فرلکھا ہونے سے ان کا ” الوہیت مسیح کا انتہائی باطل عقیدہ مراد ہے جسے ہر سچا مومن ، خواہ خواندہ ہو یا نا خواندہ پڑھ سکتا ہے اور ان کا زمین و آسمان میں تصرفات کرنا اور خزانے نکالنا اور امانت واحیاء کرنا وغیرہ ظاہر ہے کہ ان کے علوم جدیدہ اور میڈیکل سائنس وغیرہ کی طاقتوں کی طرف مجازی طور پر اشارہ ہے ورنہ از روئے حقیقت تو یہ امور سب اللہ کے ہاتھ میں ہیں اور ان کو غیر اللہ کی طرف منسوب کرنا کفر ہے۔دجال کے ساتھ جنت اور دوزخ کا ہونا یہ ہے کہ جو شخص ان کے ساتھ ہو جاتا ہے ان کی بات مانتا ہے اور ان کے مذہب کو اختیار کرتا ہے وہ ظاہراً ایک جنت میں داخل ہو جاتا ہے گو در اصل وہ دوزخ ہے اور جو اُن کے بدخیالات سے الگ رہتا ہے اس کو ظاہرا