شیطان کے چیلے — Page 482
478 حضرت امام ابن القیم کے نزدیک تئیس برس تک مہلت پانا قطعی دلیل صداقت ہے۔(3) شرح العقائد کی شرح النبر اس میں 23 سالہ معیار کی وجہ بایں الفاظ درج ہے: ” فان النبي صلى الله عليه وسلم بعث وعمره اربعون سنة وتوفى وعمره ثلاث وستون سنة على الصحيح (صفحہ 444 مطبوعہ شاہ عبدالحق محدث دہلوی اکیڈمی سرگودہا) ترجمہ: صحیح بات یہ ہے کہ رسول کریم نے چالیس برس کی عمر میں مبعوث ہوئے اور تریسٹھ سال کی عمر میں حضور کا وصال ہو گیا۔“ گویا حضور بعد دعویٰ وحی تئیس برس تک زندہ رہے۔اور یہ صداقت کا کامل معیار ہے۔یعنی جو مدعی وحی والہام اتنا عرصہ مہلت پالے وہ یقینا سچا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس اصول کے مزید نقوش ابھارتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: دو خدا تعالیٰ نے ایک بڑا اصول جو قرآن شریف میں قائم کیا تھا اور اسی کے ساتھ نصاری اور یہودیوں پر حجت قائم کی تھی یہ تھا کہ خدا تعالیٰ اس کا ذب کو جو نبوت یا رسالت اور مامورمن اللہ ہونے کا جھوٹا دعوی کرے مہلت نہیں دیتا اور ہلاک کرتا ہے۔پس ہمارے مخالف مولویوں کی یہ کیسی ایمانداری ہے کہ مونہہ سے تو قرآن شریف پر ایمان لاتے ہیں مگر اس کے پیش کردہ دلائل کو رد کرتے ہیں۔اگر وہ قرآن شریف پر ایمان لا کر اسی اصول کو میرے صادق یا کاذب ہونے کا معیار ٹھہراتے تو جلد تر حق کو پالیتے لیکن میری مخالفت کے لئے اب وہ قرآن شریف کے اس اصول کو بھی نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ اگر کوئی ایسا دعوی کرے کہ میں خدا کا نبی یا رسول یا مامور من اللہ ہوں جس سے خدا ہم کلام ہو کر اپنے بندوں کی اصلاح کے لئے وقتا فوقتا راہ راست کی حقیقتیں اس پر ظاہر کرتا ہے اور اس دعوے پر تئیس یا پچیس برس گذر جائیں یعنی وہ معیاد گذر جائے جو آنحضرت ﷺ کی نبوت کی میعاد تھی اور وہ شخص اس مدت تک فوت نہ ہو اور نہ قتل کیا جائے تو اس سے لازم نہیں آتا کہ وہ شخص سچا نبی یا سچا رسول یا خدا کی طرف سے سچا مصلح اور مجد د ہے اور حقیقت میں خدا اس سے ہم کلام ہوتا ہے لیکن ظاہر ہے کہ یہ کلمہ کفر ہے کیونکہ اس سے خدا کے کلام کی تکذیب و تو ہین لازم آتی ہے ہر ایک عقلمند سمجھ سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں آنحضرت ﷺ کی رسالت حلقہ کے ثابت کرنے کے لئے اسی استدلال کو پکڑا ہے کہ اگر یہ شخص خدا تعالیٰ پر افترا کرتا تو میں اس کو ہلاک کر دیتا۔اور تمام علماء