شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 465 of 670

شیطان کے چیلے — Page 465

461 د عن عمر و بن شمر عن جابر عن محمد بن علی قال ان المهد ينا۔۔۔۔الخ ترجمہ: عمرو بن شمر نے جابر سے روایت کی ہے کہ محمد بن علی (یعنی امام محمد باقر) نے فرمایا کہ ہمارے مہدی کی دونشانیاں ہیں۔جب سے زمین و آسمان پیدا ہوئے کبھی انکا ظہور نہیں ہوا۔وہ دونشانیاں یہ ہیں کہ رمضان کی پہلی رات میں چاند گرہن ہوگا ( دارقطنی جلد 1 صفحہ 188 ) اور سورج گرہن رمضان کی نصف میں ہوگا۔پتہ چلا کہ دار قطنی کی جس روایت کو مرزا صاحب نے اپنی مہدویت کی بنیاد بنایا وہ سرے سے حضور ﷺ کی حدیث ہی نہیں ہے۔دوسرے بڑی چلا کی سے مرزا صاحب دو راویوں ( عمرو اور جابر ) کے نام ہضم کر گئے جن کے بارے میں زمانہ قدیم سے امام ابو حنیفہ اور دیگر علمائے کرام کا فیصلہ تھا کہ وہ جھوٹے اور رافضی غالی ہیں۔“ ( بے لگام کتاب ) ( نقل بمطابق اصل ) را شد علی اور اس کے پیر نے کسوف و خسوف والی حدیث کے ضمن میں تین حملے کئے ہیں۔ایک حملہ تو حدیث کی سند کی آڑ میں اس نے براہ راست حدیث نبوی پر کیا ہے اور دوسرا حملہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تحریر فرمودہ ترجمہ حدیث پر اور تیسرا حملہ اپنے ترجمہ میں لپیٹ کر انہوں نے قانون قدرت پر کیا ہے۔را شد علی اور اس کے پیر کا یہ حملہ کہ پتہ چلا کہ دارقطنی کی جس روایت کو مرزا صاحب نے اپنی مہدویت کی بنیاد بنایا وہ سرے سے کی حدیث ہی نہیں۔۔۔محض ایک تعلی ہے جس کی آڑ میں وہ اس صداقت سے بھاگنا چاہتے ہیں جو رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائی۔بہر حال اس کا جواب حضرت مسیح موعود علیہ السلام خودارشاد فرما چکے ہیں کہ " یہ کہنا بے جا ہوگا کہ یہ احادیث ضعیف ہیں یا بعض روایات مجروح ہیں یا حدیث منقطع اور مرسل ہے۔کیونکہ جس حدیث کی پیشگوئی واقعی طور پر سچی نکلی اس کا درجہ فی الحقیقت صحاح سے بھی بڑھ کر ہے کیونکہ اس کی صداقت بدیہی طور پر ظاہر ہو گئی۔غرض جب حدیث کی پیشگوئی سچی نکلی تو پھر بھی اس میں شک کرنا صریح بے ایمانی ہے۔(انوار الاسلام۔روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 48 حاشیہ) پھر فرمایا: