شیطان کے چیلے — Page 456
452 دیا۔66 چشمہ معرفت - روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 229 230 ) پس صادق و مصدوق حضرت محمد مصطفی ﷺ کی یہ ایسی محکم پیشگوئی ہے جس کو جھٹلانے کے لئے کسی ماں کے لال میں طاقت نہیں۔اگر یہ پیر ومرید رسول اللہ علیہ کے مہدی سے بغض رکھتے ہیں تو یہی ان کے جھوٹا ہونے کی دلیل ہے۔iii چودہویں صدی میں امام مہدی کی آمد راشد علی اور اس کے پیر نے لکھا ہے کہ میں تمام قادیانیوں کو چیلنج کرتا ہوں وہ حدیث کی کسی کتاب میں حضور ﷺ کی کوئی ایسی حدیث دکھاویں کہ جس میں چودھویں صدی کا ذکر ہو۔یہ سرکار دو عالم ﷺ پر مرزا صاحب اور جماعت احمدیہ کا بدترین بہتان وافتراء ہے۔( بے لگام کتاب ) جناب راشد علی اور پیر عبد الحفیظ صاحب ! تمہارے چیلنج کی حیثیت ہی کیا ہے تم تو وہ بد نصیب لوگ ہو جو خدا تعالیٰ کی فعلی شہادت کو ٹھکرا کر یضل بہ کثیراً کے زمرہ میں داخل ہو۔پہلے مامورین من اللہ کو تم جیسے چیلنج دینے والے لوگوں نے خدائی نشانوں سے کونسا فائدہ اٹھایا تھا جو آج تم اٹھاؤ گے ؟ مہدی معہود کی چودھویں صدی میں آمد کا اس سے بڑھ کر اور کیا ثبوت ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے بعد عین چودھویں صدی میں اس کو بھیجا ہے اور اس کی سچائی کے ثبوت کے لئے اس نے اپنی فعلی شہادت کے طور پر وہ نشان بھی ظاہر فرمائے جن سے تم آنکھیں تو بند کر سکتے ہو، انہیں جھٹلا نہیں سکتے۔جہاں تک چودھویں صدی میں مہدی ومسیح کی آمد کا تعلق ہے تم اس کی دلیل ہم سے کیا مانگتے ہو۔ہم تو خدائی اشاروں کو قبول کرنے والے ہیں۔ہمیں تو چودھویں صدی کے ثبوت ہر جگہ چمکتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ہاں اس کی دلیل چاہتے ہو تو ان لوگوں سے پوچھو اور انہیں سے دلیل مانگو، جن کا ذکر ہم ذیل میں کر رہے ہیں۔انہیں چیلنج بھی کرو کہ انہوں نے چودھویں صدی کا تعین کس طرح کر لیا۔چنانچہ حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: قال رسول الله صلى الله عليه وسلّم الآيات بعد المئتين - (ابن ماجہ۔کتاب الفتن باب اشراط الساعة - المشکوۃ کتاب الفتن باب اشراط الساعه )