شیطان کے چیلے — Page 446
442 (1) دعوی مهدویت و مسیحیت را شد علی اور اس کے پیر نے مرزا صاحب کا اضطراب“ کے عنوان کے تحت لکھا ہے۔مرزا صاحب اگر چه دعوئی مہدویت تو کر بیٹھے تھے مگر ان کے لئے یہ خیال بڑا سوہان روح تھا کہ حضور ﷺ کی بیان کردہ معیار امام مہدی کی تو ان کو ہوا تک نہیں لگی ہے۔کہ کبھی تو ان احادیث کا ہی انکار کر دیتے یا پھر کبھی فرماتے :۔”میرا یہ دعوی نہیں ہے کہ میں وہ مہدی ہوں جو مصداق من ولد فاطمة ومن عترتی وغیرہ ہے۔“ مگر پھر کھل کر یہ اقرار کر لیا کہ:۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحه 256) ہمیں اس بات کا اقرار ہے کہ پہلے بھی کئی مہدی آئے ہوں اور ممکن ہے کہ آئندہ بھی آویں اور ممکن ہے کہ امام محمد کے نام پر بھی کوئی مہدی ظاہر ہو۔“ (روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 379) اسی سے ملتا جلتا مسیح موعود کے بارے میں مرزا صاحب کے اقرار کا تذکرہ قارئین کے لئے دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔ممکن ہے کہ مستقبل میں کوئی مسیح نہ آئے۔ممکن ہے دس ہزار اور مسیح آجائیں اور ان میں سے ایک دمشق میں نازل ہو جائے۔ممکن ہے اور بالکل ممکن ہے کہ کسی زمانے میں کوئی ایسا مسیح بھی آجائے جس پر حدیثوں کے ظاہری الفاظ (روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 197) صادق آسکیں۔۔لیجئے صاحب! مسئلہ ہی حل ہو گیا۔مرزا صاحب کے ذہن کے کسی نہ کسی تاریک گوشہ میں یہ حقیقت محفوظ تھی کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے وہ رہیں گے جھوٹے کے جھوٹے مدعی کے مدعی مدعی مسیحیت / مدعی مہدویت مدعی نبوت !!! ( بے لگام کتاب) را شد علی اور اس کے پیر نے اپنے مذکورہ بالا بیان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے تین اقتباس پیش کئے ہیں ان تینوں اقتباسات کے سیاق و سباق کو چھپا کر حق کو چھپانے کی کوشش کی ہے۔لیکن اس سے بھی بڑھ کر ان کے دجل اور ان کی بدیانتی کا ثبوت یہ ہے کہ تیسرا اقتباس جو انہوں نے روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 197 سے پیش کیا ہے اس کی پہلی دوسطریں یعنی ممکن ہے کہ مستقبل میں کوئی مسیح نہ آئے۔ممکن ہے