شیطان کے چیلے — Page 447
443 دس ہزار اور مسیح آجائیں اور ان میں سے ایک دمشق میں نازل ہو جائے۔“ یہ نہ صفحہ 197 پر موجود ہیں نہ اس سے پہلے۔انہوں نے از خود یہاں ان دو سطروں کا الحاق کیا ہے۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ راشد علی اور اس کا پیر نہ صرف جھوٹے ہیں بلکہ فریب دہی میں بھی ید طولیٰ رکھتے ہیں اور اپنے عقیدہ کے مطابق احیائے حق کے لئے کذب صریح نہیں بولتے بلکہ ایک قدم آگے نکل کر حق چھپانے کے لئے کذب صریح کا ارتکاب کرتے ہیں۔بہر حال قارئین کی تسلی کے لئے اصل اقتباسات پیش ہیں جو اصل مسئلہ کی تفصیل بھی بیان کرتے ہیں اور راشد علی اور اس کے پیر کے جھوٹ اور ان کی بدیانتی کی قلعی بھی خوب کھولتے ہیں۔چنانچہ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 197 کا پورا اقتباس ملاحظہ ہو۔” میں نے صرف مثیل مسیح ہونے کا دعوی کیا ہے اور میرا یہ بھی دعویٰ نہیں کہ صرف مثیل ہونا میرے پر ہی ختم ہو گیا ہے بلکہ میرے نزدیک ممکن ہے کہ آئندہ زمانوں میں میرے جیسے اور دس ہزار بھی مثیل مسیح آ جائیں۔ہاں اس زمانہ کے لئے میں مثیل مسیح ہوں اور دوسرے کی انتظار بے سود ہے اور یہ بھی ظاہر رہے کہ یہ کچھ میرا ہی خیال نہیں کہ مثیل مسیح بہت ہو سکتے ہیں بلکہ احادیث نبویہ کا بھی یہی منشاء پایا جاتا ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں کہ دنیا کے اخیر تک قریب تمہیں کے دجال پیدا ہوں گے۔اب ظاہر ہے کہ جب تمیں دجال کا آنا ضروری ہے تو بحکم لکل دجال عیسی تمیں مسیح بھی آنے چاہئیں۔پس اس بیان کی رو سے ممکن اور بالکل ممکن ہے کہ کسی زمانہ میں کوئی ایسا مسیح بھی آجائے جس پر حدیثوں کے بعض ظاہری الفاظ صادق آسکیں کیونکہ یہ عاجز اس دنیا کی حکومت اور بادشاہت کے ساتھ نہیں آیا ، درویشی اور غربت کے لباس میں آیا ہے۔“ (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 197) ملاحظہ فرمائیں کہ خط کشیدہ الفاظ کے ساتھ وہ عبارت نہیں ہے جو انہوں نے از خود الحاق کی ہے۔جہاں تک پہلے دو اقتباسات کا تعلق ہے وہ بھی سیاق وسباق کے ساتھ قارئین کی خدمت میں پیش ہیں تا کہ ان پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مدعا بھی خوب روشن ہو جائے اور راشد علی اور اس کے پیر کی بدیانتی بھی۔(1) براہین احمدیہ، حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 356 میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے