شیطان کے چیلے — Page 437
435 (12) بیابانوں کے خنزیر راشد علی اور اس کے پیر سید عبدالحفیظ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ” نجم الہدی میں سے ایک عربی نظم کا حسب ذیل شعر کا ترجمہ تحریر کیا ہے۔ان العدا صاروا خنازير الفلا ونساؤهم من دونهن الاكلب ترجمہ:۔دشمن ہمارے، بیابانوں کے خنزیر ہو گئے اور ان کی عورتیں کتیوں سے بڑھ گئی ہیں۔“ نجم الہدی۔روحانی خزائن جلد 4 صفحہ 53) اس شعر کے ترجمہ پر اس نے عنوان لگایا ہے ” تمام انسانیت کی تذلیل و تحقیر نیز یہی ترجمہ اپنی ” بے لگام کتاب“ میں ” متوازی امت“ کے عنوان کے تحت بھی لکھا ہے مگر وہاں از راہ تلبیس بریکٹ ڈال کر 66 ترجمہ یوں بنا دیا ہے۔ہمارے ( مرزا صاحب کے دشمن ہمارے بیابانوں کے خنزیر ہو گئے۔۔۔۔گویا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ شعر تمام بنی نوع انسان کے بارہ میں تحریر فرمایا ہے اور اس وجہ سے تمام انسانیت کی تذلیل و تحقیر ہو گئی ہے اور اس شعر کی وجہ سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایک متوازی امت“ بنانے والے قرار پاتے ہیں۔معزز قارئین ! حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ نظم نہ تومسلمانوں کے بارہ میں لکھی ہے اور نہ ہی وہ اس شعر کے مخاطب ہیں اور نہ ہی اس نظم کی وجہ سے کوئی متوازی امت بن سکتی ہے۔یہ راشد علی اور اس کے پیر کا سفید جھوٹ ہے اور ان کی شر انگیزی ہے جو خوامخواہ اس شعر کو مسلمانوں پر چسپاں کر کے (نعوذ باللہ ) انہیں سؤر اور ان کی عورتوں کو کتیاں قرار دیتے ہیں۔وہ خود اپنی طرف سے اس شعر کو تمام انسانوں پر حاوی کرتے ہیں اور الزام حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر دھرتے ہیں۔اس مذکورہ بالا شعر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیر عبدالحفیظ اور راشد علی اور ان کے ہم