شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 355 of 670

شیطان کے چیلے — Page 355

353 ہوتے ہیں اور ان میں بقول شاعر حسن کو چاند ، جوانی کو کنول کہتے ہیں“ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان اشعار میں رہ عشق خدا میں اپنی مشکلات و تکالیف کے بیان کے لئے کربلا اور حسین اور گریبان کے استعارے اسی طرح استعمال فرمائے ہیں جس طرح علامہ ملا نوعی نے اپنے اس شعر میں استعمال فرمائے کہ کر بلائے عشقم تش سرتا پائے من صد حسین در ہر گوشہ صحرائے من (دیوان علامه نوعی ) کہ میں عشق کا کربلا ہوں اور سرا پا تشنہ محبت ہوں اور میرے دل کے ہر گوشے میں سینکڑوں حسین قتل ہوتے ہیں۔اس شعر میں بھی کر بلا اور حسین کے استعاروں سے مراد میدانِ کربلا کے کرب و بلا اور حسین سے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی استقامت اور قربانیوں کی کیفیات ہی کا اظہار مقصود ہے نہ کہ حضرت حسین پر فضیلت کا دعویٰ کیا گیا ہے۔اور دل کے لئے صحرا کا استعارہ استعمال کیا گیا ہے۔ان استعاروں کو ظاہر پر محمول کر کے ان کو نا جائز قرار دینے والا یا ان کی وجہ سے صاحب شعر کو ہدف اعتراض بنانے والا کوئی جاہل ہی ہو سکتا ہے۔کہ جس کو شعر و ادب کا ادراک ہی نہیں یا پھر ایسا کور باطن ہوسکتا ہے جو دن کو بھی رات ہی سمجھتا ہے۔جہاں تک کتاب دافع البلاء روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 233‘ کی مذکورہ بالا عبارت کا تعلق ہے جس پر راشد علی اور اس کے پیر نے اپنے اعتراض کی بنیاد رکھی ہے تو اس میں ان دونوں نے بدیانتی سے کام لیا ہے اور ادھوری عبارت پیش کی ہے اور اس عبارت کا پس منظر بھی نہیں بتایا۔قارئین اگر اس عبارت کا سیاق وسباق پڑھیں تو حقیقت حال واضح ہو جائے گی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس جگہ غالی شیعوں کے اس رجحان کو بدلنے کی کوشش کی ہے جس کا رخ شرک کی طرف تھا۔وہ خدا تعالیٰ کی بجائے حضرت حسین رضی اللہ عنہ کومشکل کشا اور بلاؤں کو ٹالنے والا جانتے تھے۔آپ نے ان کو خدائے قادر مطلق سے وابستہ ہونے