شیطان کے چیلے — Page 288
287 آنحضرت ﷺ کی توہین کے الزام کے تحت یوں کیا ہے کہ حسب ذیل عبارت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف منسوب کی ہے۔دنیا میں کوئی نبی ہی نہیں گذرا جس کا نام مجھے نہیں دیا گیا۔سوجیسا کہ براہین احمدیہ میں خدا نے فرمایا ہے کہ میں آدم ہوں۔میں نوح ہوں ، میں ابراہیم ہوں ، میں الحق ہوں ، میں یعقوب ہوں ، میں اسماعیل ہوں ، میں عیسی ہوں۔میں ابن مریم ہوں ، میں محمد علی ہوں یعنی بروزی طور (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 76) وو اس حوالہ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اصل تحریر دیکھیں تو وہ کچھ یوں ہے: 66 اس وحی الہی میں خدا نے میرا نام رسل رکھا کیونکہ جیسا کہ براہین احمدیہ میں لکھا گیا ہے خدا تعالیٰ 66 ، نے مجھے تمام انبیاء علیہم السلام کا مظہر ٹھہرایا ہے اور تمام نبیوں کے نام میری طرف منسوب کئے ہیں۔میں آدم ہوں، میں شیث ہوں ، میں نوح ہوں، میں ابراہیم ہوں، میں الحق ہوں، میں اسمعیل ہوں، میں یعقوب ہوں، میں یوسف ہوں ، میں موسیٰ ہوں، میں داؤد ہوں، میں عیسی ہوں اور آنحضرت ﷺ کے نام کا میں مظہر اتم ہوں یعنی ظامی طور پر محمد اور احمد ہوں۔“ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 76 حاشیہ ) دیکھئے! یہ پیر اور مرید کس طرح اصل عبارتوں کے ساتھ صرف بدیانتی ہی نہیں کرتے بلکہ کھلا کھلا دجل بھی کرتے ہیں۔اصل عبارت میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صاف لکھا ہے کہ ” خدا تعالیٰ نے مجھے تمام انبیاء علیہم السلام کا مظہر ٹھہرایا ہے۔اور یہ بات ہر صاحب فہم اچھی طرح جانتا ہے کہ مظہر ہونے کا مطلب اصل ہونا ہرگز نہیں ہوتا۔بلکہ اس کا لازمی خاصہ یہ ہے کہ مظہر اور اصل الگ الگ وجود ہوں۔جیسا کہ ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ خدا تعالیٰ کی صفات کے مظہر اتم ہیں تو اس کا لازمی اور قطعی نتیجہ یہ ہے کہ آپ خدا نہیں ہیں۔بعینہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام گذشتہ انبیاء علیہم السلام کے مظہر ہیں بجنسہ وہ نہیں ہیں۔یہ مضمون جس لفظ سے پھوٹ پھوٹ رہا ہے وہ راشد علی اور اس کا پیراز راہ دجل چھپا گئے ہیں۔علاوہ ازیں انہوں نے لکھا ہے ” میں محمد ﷺے ہوں یعنی بروزی طور پر لیکن یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نہیں لکھا۔بلکہ آپ نے یہ تحریر فرمایا ہے کہ۔صلى الله ،، آنحضرت ﷺ کے نام کا میں مظہر اتم ہوں یعنی ظلمی طور پر محمد اور احمد ہوں۔“