شیطان کے چیلے — Page 266
265 ہے۔وانى لظل ان يخالف اصله فمافيه في وجهي يلوح ويزهر یعنی سایہ کیونکر اپنے اصل سے مخالف ہو سکتا ہے پس وہ روشنی جو اس میں ہے وہی مجھ میں چمک رہی نیز حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں:۔وو جو کچھ میری تائید میں ظاہر ہوتا ہے دراصل وہ سب آنحضرت ﷺ کے معجزات ہیں۔“ تتمہ حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 496) پس اس باب میں آخری کلام یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ مذکورہ بالا تحریر فیصلہ کن ہے جور اشد علی اور اس کا پیرلوگوں سے چھپاتے ہیں اور ان کے لئے گمراہی کے سامان کرتے ہیں۔اسی ذیل میں انہوں نے گستاخی رسول “ کی دلیل کے طور پر لکھا ہے کہ ” خطبہ الہامیہ میں حضور کے زمانے کے اسلام کو ہلال اور اپنے اسلام کو بدر سے تعبیر کیا ہے۔اس کا حوالہ انہوں نے روحانی خزائن جلد 16 صفحہ 184 دیا ہے۔یہ حقیقت افروز تفصیلی مضمون صفحہ 184 پر نہیں بلکہ صفحہ 273 سے لیکر آگے چند صفحات پر پھیلا ہوا ہے جس میں سے ایک حصہ کو لے کر اس پیر نے ہدف اعتراض بنایا ہے یہ ان لوگوں کی بدیانتی ہے کہ مضمون کی تفصیل کو چھوڑ کر صرف ایک حصہ کو اچک لیتے ہیں اور اپنے جھوٹے اعتراضات کا نشانہ بناتے ہیں نیز یہ بھی کہ اعتراضات کرتے وقت یہ اپنے سے پہلے جھوٹوں کی نقل کرتے ہیں اور جو غلط سلط حوالہ پہلوں نے درج کیا ہوتا ہے وہی یہ بھی درج کر دیتے ہیں۔مذکورہ بالا مسئلہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آیت کریمہ "وَلَقَد نَصَرَكُم الله بِبَدرِ وَأَنتُم أَذِلَّةٌ “ کی تشریح میں بیان کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ فانظر الى هذه الآية كالمبصرين ـ فانها تدلّ على البدرين باليقين - بدر مضت لنصر الاولين - وبدر كانت آية للاخرين “ پھر آگے جا کر یہ تحریر فرماتے ہیں کہ فان للآية وجهين، والنصر نصران، والبدر بدران - بدر تتعلق بالماضي وبدر تتعلّق بالاستقبال من الزمان “