شیطان کے چیلے — Page 213
212 1891ء کی کتاب ہے۔اس کے بعد مرزا احمد بیگ ہلاک ہو گیا اور پیشگوئی کے اس حصہ کا سچا اور برحق ہونا روز روشن کی طرح ثابت ہو گیا۔دوسرا حصہ یعنی مرزا احمد بیگ کے داماد کی موت اور اس کی لڑکی کا بیوہ ہو جانے کے بعد حضرت اقدس سے نکاح، پیشگوئیوں کے اصول کے مطابق ٹل گیا اور اس طرح پیشگوئی کی اصل غرض یعنی اس خاندان کی اصلاح وقوع میں آئی۔ایسی پیشگوئیوں میں مخفی شرائط کے باعث محوداثبات ہوتا ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: 66 يَمْحُوا اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَ يُثْبِتُ “ (الرعد: 40) کہ اللہ جو چاہے مٹا دیتا ہےاور ( جو چاہے ) قائم بھی رکھتا ہے۔اعتراض سوم :۔نکاح آسمان پر پڑھا جا چکا تھا تو تا خیر میں کیسے پڑ گیا۔الجواب: - حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ نکاح آسمان پر پڑھا گیا الہام زوجـنـکـها‘ کا یہ مفہوم ظاہر کرنے کے لئے کہے گئے تھے کہ نکاح اس وعیدی پیشگوئی کا ایک حصہ ہے۔آپ اجتہاداً ا سے مبرم سمجھتے رہے یعنی یہ امر کہ محمدی بیگم کا خاوند مرزا سلطان محمد کسی وقت تو بہ توڑ دے گا۔حالانکہ اس بارہ میں آپ کو کوئی جدید الہام نہیں ہوا تھا۔آخری الہام جو ہو اوه تکفیک هذه الإمرأة “ تھا۔کہ یہ عورت جو آپ کے نکاح میں ہے، آپ کے لئے کافی ہے۔اس سے یہ قوی فیصلہ ہو گیا کہ محمدی بیگم سے نکاح کا وقوع منسوخ ہو گیا ہے۔چونکہ تکذیب کرنے اور تو بہ توڑنے کا عقلی امکان ابھی باقی تھا اس لئے آپ نے تمہ حقیقۃ الوحی میں یہ توجیہ کی کہ نکاح فسخ ہو گیا ہے یا مؤخر ہو گیا ہے۔لیکن بعد کے واقعات نے یہ شہادت دی کہ عند اللہ سیہ پیشگوئی مل چکی تھی۔اس لئے بعد میں آپ نے اخبار بدر 23 اپریل 1908ء میں یہ شائع فرما دیا کہ یہ پیشگوئی وہ ٹل گئی ہے۔اور وعیدی پیشگوئی کامل جانا آیت ” يَمْحُوا اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَ يُثْبِتُ “ کے تحت ہوا ہے۔ماسوا اس کے کہ الہام ” زو جنگھا“ کا مفہوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ قرار دیا کہ بعد واپسی کے ہم نے اس سے تیرا نکاح کر دیا۔(انجام آتھم صفحہ 60) اور یہ نکاح سلطان محمد کی تو بہ کی وجہ سے وقوع میں نہ آیا تا ہم ایک دوسری تعبیر سے بھی یہ پیشگوئی اس طرح پوری ہوگئی کہ اس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مسیح موعود کا منصب جلیل عطا ہوا۔نکاح کے تعبیری معنے منصب جلیل کے ملنے کے ہیں۔