شیطان کے چیلے — Page 212
211 کرنے کی بنیاد بن گیا جو ایسی صورت میں اس کی ہلاکت کے بارہ میں تھا۔چنانچہ وہ چھ ماہ کے اندر مر گیا۔اس سے محمدی بیگم کے خاوند پر پیشگوئی کی ہیبت طاری ہو گئی اور اس نے تو بہ اور استغفار سے کام لیا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں بھی اپنی اس تو بہ پر قائم رہا اور آپ کے بعد بھی۔پس اس کے اس شرط تو بہ سے فائدہ اٹھانے کی وجہ سے نکاح والا حصہ منسوخ ہو گیا۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اجتہاد تھا کہ سب روکیں اٹھا دی جائیں گی، نہ کہ الہام۔جیسا کہ پہلے بھی ذکر کیا گیا ہے خدا تعالیٰ فرماتا ہے مَا كَانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَهُمْ يَسْتَغْفِرُوْنَ (الانفال: 34) کہ اللہ تعالیٰ ایسا نہیں کہ ان کو عذاب دے جبکہ وہ بخشش طلب کرتے ہوں۔یعنی تو بہ واستغفار کی روک کو جبراً اٹھانا اللہ تعالیٰ کی شان کے خلاف ہے۔چونکہ مرزا سلطان محمد نے اس شرط سے فائدہ اٹھا کر اس پیشگوئی کی اصل غرض کو پورا کر دیا تھا اس لئے اس کے دوسرے حصے کے نفوذ کی ضرورت نہیں تھی لہذاوہ حصہ مل گیا۔اعتراض دوم :۔مرزا صاحب اسی کتاب میں یہ بھی لکھتے ہیں کہ ” اس کے بعد اس عاجز کو ایک سخت بیماری آئی۔یہانتک کہ قریب موت کے نوبت پہنچ گئی بلکہ موت کو سامنے دیکھ کر وصیت بھی کر دی گئی۔اس وقت گویا یہ پیشگوئی آنکھوں کے سامنے آ گئی اور یہ معلوم ہو رہا ہے کہ آخری دم ہے کل جنازہ نکلنے والا ہے۔تب میں نے اس پیشگوئی کی نسبت خیال کیا کہ شاید اس کے اور معنے ہوں گے جو میں نہ سمجھ سکا۔تب اسی حالت میں قریب الموت مجھے الہام ہوا۔الـحـق مــن ربّک فلا تكن من الممترین۔یعنی یہ بات تیرے رب کی طرف سے سچ ہے تو کیوں شک کرتا ہے۔‘“ (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 798) میں نہ آیا ؟ اس سے ظاہر ہے کہ اس الہام نے تصدیق بھی کر دی تھی کہ نکاح ضرور ہو گا مگر پھر نکاح کیوں وقوع الجواب :۔اس الہام کے الفاظ سے صاف واضح ہے کہ اس کا مقصود صرف یہ ہے کہ پیشگوئی کا اللہ تعالی کی طرف سے ہونا برحق امر ہے ، اس میں کسی قسم کا کوئی شک نہیں۔لہذا آپ کو نفس پیشگوئی میں شک نہیں کرنا چاہئے۔اس الہام سے یہ ظاہر کرنا مقصود نہ تھا کہ پیشگوئی کا ظہور کس رنگ میں ہوگا۔کیونکہ ازالہ اوہام