شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 210 of 670

شیطان کے چیلے — Page 210

209 اجتہاد کیا کہ سلطان محمد کسی وقت ضرور تو بہ توڑ دے گا۔پھر اس کے نتیجہ میں وہ ہلاک ہو گا اور اس کے بعد محمدی بیگم ضرور آپ کے نکاح میں آئے گی۔یہ اجتہاد کرنے کا آپ کو بہر حال حق تھا اور آپ نے الہامات کے الفاظ کوملحوظ رکھتے ہوئے یہ اجتہاد فرمایا کہ سلطان محمد کا تو بہ کو توڑ نا ضروری ہے۔اس لئے پیشگوئی فی نفسہ ملی نہیں بلکہ اس کی موت میں صرف تأخیر ہوئی ہے، مگر خدا تعالیٰ نے آپ کو اس اجتہاد پر قائم نہ رہنے دیا اور 16 فروری 1906 ء کو آپ پر یہ الہام نازل فرمایا: تكفيك هذه الامرأة“ ( تذکرہ - صفحہ 596۔ایڈیشن 1969ء۔مطبوعہ الشركة الاسلامیہ ربوہ ) کہ تمہارے لئے یہ عورت جو تمہارے نکاح میں ہے کافی ہے۔اس الہام کے نزول پر آپ نے اپنے اجتہاد میں اصلاح فرمالی اور تمہ حقیقۃ الوحی میں صاف لکھ دیا کہ وو جب ان لوگوں نے شرط ( تو بہ۔ناقل ) کو پورا کر دیا تو نکاح فسخ ہو گی یا تاخیر میں پڑ گیا۔“ اس جدید اجتہاد سے جو نئے الہام کی روشنی میں کیا گیا اب حضرت اقدس کا درمیانی زمانہ کا اجتہاد جس میں آپ نے محمدی بیگم کے خاوند کے تو بہ توڑنے کو اور اس کے بعد نکاح کو ضروری قرار دیا تھا، قابلِ تجبت نہ رہا۔پس یہ پیشگوئی اپنی الہامی شرائط کے مطابق ظہور پذیر ہوئی۔لہذا اس کے بارہ میں الہامات پر کسی قسم کے اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں رہتی۔اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا آخری اجتہاد بھی سنت اللہ کے عین مطابق تھا۔اس لئے اس پر بھی کوئی اعتراض وارد نہیں ہو سکتا۔اس نئے الہام کی وجہ سے درمیانی زمانہ کے اجتہاد جو سلطان محمد کی موت کو ضروری اور اس کے بعد نکاح کو مبرم قرار دیتے تھے ، اس شرط کے ساتھ مشروط سمجھے جائیں گے کہ اگر کسی وقت سلطان محمد از خود تو بہ توڑ دے تو اس کی ہلاکت اور پھر اس کے بعد حضرت اقدس کا محمدی بیگم سے ضرور نکاح ہوگا ورنہ نہیں۔پس جدید اجتہاد کی بنا پر پیش کردہ عبارتیں اوپر کی شرط سے مشروط ہو گئیں۔اس لئے اب عبارتوں کی ترتیب حسب ذیل ہوگی۔عبارتوں کی ترتیب 1: اگر مرزا سلطان محمد کسی وقت تو بہ تو ڑ کر پیشگوئی کی تکذیب کرے ) تو اس عورت کا اس عاجز کے نکاح میں آجانا یہ تقدیر مبرم ہے۔جو کسی طرح ٹل نہیں سکتی۔کیونکہ اس کے لئے الہام الہی میں یہ کلمہ موجود