شیطان کے چیلے — Page 197
196 ترجمہ:۔ان لوگوں نے ہمارے نشانوں کو جھٹلایا ہے اور ان کے ساتھ ٹھٹھا کرتے رہے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ ان کے مقابلہ میں تیرے لئے کافی (سپر ) ہو گا۔( یعنی انہیں عذاب دے گا ) اور اس عورت کو تیری طرف 66 لوٹائے گا۔خدا کے کلمات بدل نہیں سکتے۔“ پھر 15 جولائی والے اشتہار میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حسب ذیل الہام بھی درج کرتے ہوئے فرمایا کہ وو رأيت هذه المرأة و أثر البكاء على وجهها فقلت أيتها المرأة توبى توبى فان البلاء على عقبك والمصيبة نازلة عليك يموت و يبقى منه كلاب متعدّدة۔(اشتہار 15 جولائی 1888ء۔حاشیہ تبلیغ رسالت جلد 1 صفحہ 120) ترجمہ:۔میں نے اس عورت ( یعنی محمدی بیگم کی نانی کو ( کشفی حالت میں ) دیکھا اور رونے کے آثاراس کے چہرے سے ظاہر تھے۔پس میں نے اس سے کہا کہ اے عورت تو بہ کر ! تو بہ کر ! کیونکہ بلا تیری اولاد پر ہے۔اور مصیبت تجھ پر نازل ہونے والی ہے۔ایک مرد مر جائے گا اور اس کی طرف کتنے باقی رہ جائیں گے۔پس اس امر کو بنیادی طور پر یا درکھنا چاہئے کہ الہام "يردّها اليك لا تبديل لكلمات الله تو بہ نہ کرنے کی شرط سے مشروط ہے۔اس کی وضاحت 15 جولائی والے الہام سے ہوتی ہے۔یعنی تو بہ کے وقوع میں آنے سے پیشگوئی کا یہ حصہ جو محمدی بیگم کی واپسی سے تعلق رکھتا ہے مل سکتا تھا۔چنانچہ جب محمدی بیگم کے باپ نے ان کا نکاح دوسری جگہ کر دیا تو پیشگوئی کے مطابق محمدی بیگم کا والد مرزا احمد بیگ نکاح کرنے کے بعد چھ ماہ کے عرصہ میں پیشگوئی کی میعاد کے اندر ہلاک ہو گیا۔اس کی ہلاکت کا اس خاندان پر گہرا اثر پڑا اور وہ پہلے سے بتائی ہوئی تقدیر الہی سے بیحد خوفزدہ ہوئے۔اسی اثر کے تحت محمدی بیگم کے خاوند مرزا سلطان محمد نے بھی توبہ کی اور رجوع الی اللہ کیا۔اس پیشگوئی میں ابتدائی طور پر ہی اللہ تعالیٰ نے یہ بات داخل فرمائی تھی کہ وو۔۔۔۔میں انہیں یک دم ہلاک نہیں کروں گا۔بلکہ آہستہ آہستہ تا کہ وہ رجوع کریں اور تو بہ کرنے والوں میں سے ہو جائیں۔“ اس سے صاف ظاہر ہے کہ اس پیشگوئی کی اصل غرض اس خاندان کی تو بہ اور اصلاح تھی۔اور یہی