شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 189 of 670

شیطان کے چیلے — Page 189

188 ملہم پر اس کا معلق ہونا ظاہر نہیں کیا جاتا اور وہ اجتہاد اس کے قطعی مبرم ہونے کا حکم لگا دیتا ہے اور پھر خبر کے پورا نہ ہونے پر پتہ لگ جاتا ہے کہ دراصل وہ معلق تھی۔چنانچہ حضرت مجد دالف ثانی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں۔باید دانست که اگر پرسند که بسبب چیست که در بعضی از کشوف کوئی کہ از اولیاء اللہ صادر می گردد غلط واقع مے شود و خلاف آں ظہور مے آید۔مثلاً خبر کردند که فلاں بعد از یکماه خواهد مرد یا از سفر بوطن مراجعت خواهد نمود اتفاقا بعد از یکماه ازیں چیز بیچ کدام بوقوع نیامد - در جواب گوئم که حصول آن مکشوف و مخبر عنه مشروط بشرائط بوده است که صاحب کشف در آن وقت به تفصیل اطلاع نیافته و حکم کرده بحصول آں شی ء مطلقاً یا آنکہ گویم کلی از احکام لوحِ محفوظ بر عارفے ظاہر نشد کہ آں حکم فی نفسہ قابل محو واثبات است و از قضائے معلق اما ازاں عارف را از تعلیق و قابلیت محو و بے خبر نے دریں صورت اگر بمقتضائے علم خود حکم کند نا چار احتمال تخلف خواهد شد (مکتوبات امام ربانی۔جلد اوّل صفحہ 233 مکتوب 217 - مطبع منشی نول کشور لکھو ) ترجمہ : ” جاننا چاہئے کہ اگر یہ سوال کریں کہ اس بات کا کیا سبب ہے کہ بعض آئندہ ہونے والے واقعات کی خبر دینے سے متعلق بعض کشوف جو خدا کے پیاروں سے صادر ہوتے ہیں غلط واقع ہو جاتے ہیں اور ان کے خلاف ظہور میں آتا ہے مثلاً خبر دیتے ہیں کہ فلاں شخص ایک ماہ کے اندر مر جائے گا یا سفر سے وطن واپس آ جائے گا۔اتفاقاً ایک ماہ کے بعد دونوں میں سے کوئی بات وقوع میں نہیں آتی۔66 اس سوال کے جواب میں ہم کہتے ہیں کہ یہ کشف اور اس کی خبر مشروط بشرائط ہوتی ہے جس پر اس وقت صاحب کشف کو ان شرائط کی تفصیل سے اطلاع نہیں ملتی وہ اس کے مطلق پورے ہونے کا حکم لگا دیتا ہے یا یہ کہ لوح محفوظ کے احکام کلی طور پر اس عارف پر ظاہر نہیں ہوئے کہ وہ حکم فی نفسہ محو واثبات کے قابل ہے اور قضائے معلق میں سے ہے۔لیکن اس عارف کو اس کی تعلیق اور محو کی قابلیت کی خبر نہیں ہوتی۔اس صورت میں اپنے علم کے تقاضا کے مطابق وہ حکم لگا دیتا ہے۔ناچار ایسی خبر کے پورا نہ ہونے کا احتمال ہوگا۔“ حضرت مجد دالف ثانی علیہ الرحمہ اسی مکتوب میں اگلے صفحہ پر قضائے معلق کی دو قسمیں بیان فرماتے ہوئے رقمطراز ہیں۔کہ قضائے معلق بر دو گونه است قضائے است که تعلیق اور ا د ر لوحِ محفوظ ظاهر ساخته اند و ملائکه را بر آن اطلاع داده و قضائے کہ تعلیق او نزد خدا است جل شانه و بس در لوح محفوظ صورت قضائے مبرم دارد و