شیطان کے چیلے — Page 176
175 آسکے گا ، یہ مسلک اختیار کر لیا کہ صرف نئی شریعت لانے والے نبی کا آنا ممکن نہیں البتہ اتنی یا تابع نبی کا آنا نہ صرف جائز اور ممکن ہے بلکہ مسیح کے نزول کی بابت آنحضرت کی پیشگوئیوں کی صداقت کے ثبوت کے لئے لابدی ہے۔اس غور و فکر کے وقت حسب ذیل اقتباسات بھی ضرور مدنظر رہنے چاہئیں تا کہ راشد علی اس کا پیر اور ان کے ہم عقیدہ لوگ اپنے بارہ میں بھی غور و فکر کر سکیں۔دنیائے اسلام کے مشہور و معروف صوفی اور مصنف اور ممتاز متکلم حضرت امام عبدالوہاب شعرانی (متوفی 1568ء 976ھ) فرماتے ہیں: وو ،، اعلم ان النبوة لم ترتفع مطلقاً بعد محمد الله وانما ارتفع نبوة التشريع فقط “ (الیواقیت والجواہرالجزء الثانی صفحہ 39۔طبعہ مصطفی البابی لعلم مصر ) ترجمہ :۔جان لو محمد ﷺ کے بعد مطلق طور پر نبوت نہیں اٹھی ( بند نہیں ہوئی) صرف تشریعی نبوت منقطع ہوئی ہے۔چھٹی صدی ہجری کے ممتاز ہسپانوی مفسر اور پیشوائے طریقت صوفی الشیخ الاکبر حضرت محی الدین ابن عربی ( متوفی 1240 /638ھ) فرماتے ہیں: " فالنبوة سارية الى يوم القيامة فى الخلق وان كان التشريع قد انقطع - فالتشريع جزء من اجزاء النبوة ـ “ (فتوحات مکیہ۔جلد 2 صفحہ 100 باب 73 سوال نمبر 82 مطبوعہ دار صادر بیروت ) ترجمہ :۔کہ نبوت مخلوق میں قیامت کے دن تک جاری ہے گوتشریعی نبوت منقطع ہوگئی ہے پس شریعت نبوت کے اجزاء میں سے ایک جزو ہے۔جناب الشیخ عبد القادر الکر دستانی تحریر فرماتے ہیں : ان معنى كونه خاتم النبيّن هو انه لا يبعث بعده نبی آخر بشريعة اخراى ـ “ (تقریب المرام جلد 2 صفحہ 233 ) ترجمہ: کہ آنحضرت ﷺ کے خاتم النبیین ہونے کے یہ معنی ہیں کہ آپ کے بعد کوئی نبی نئی شریعت لے کر مبعوث نہ ہوگا۔