شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 145 of 670

شیطان کے چیلے — Page 145

144 کس سے اس نور کی ممکن ہو جہاں میں وہ تو ہر بات میں ہر وصف میں یکتا نکلا براہین احمدیہ حصہ سوم۔روحانی خزائن جلد ا صفحہ ۵۰۳ ) جہاں تک اس حوالے کا تعلق ہے ، جس کا ذکر راشد علی نے کیا ہے تو اس عبارت میں کہیں بھی یہ درج نہیں کہ قرآن کریم گندے الفاظ سے بھرا ہوا ہے۔یہ ایک جھوٹا نتیجہ ہے جو اس نے اپنی طرف سے نکالا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تو یہ سمجھانے کی کوشش کی ہے کہ ہر وہ بات جو گو سخت ہو لیکن درحقیقت وہ امر واقع ہو اور اپنا ثبوت ساتھ رکھے وہ تو پھر ماننا پڑے گا کہ قرآن میں گالیاں ہیں۔حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ قرآن کریم تو کافروں کے سب پر دے کھول کر رکھ دیتا ہے۔اسے گالی قرار دینا خود حماقت ہے کیونکہ اظہار واقعہ اور چیز ہے اور گالی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ مطلق طور پر نہیں لکھا بلکہ شرطی طور پر لکھا ہے کہ اگر ایسا ہو تو اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے۔اس کی مثال ایسے ہی ہے، جیسے قرآن کریم میں آتا ہے۔قُل إِن كَانَ لِلرَّحمَنِ وَلَدٌ فَأَنَا أَوَّلُ العَبدِينَ (الزخرف:82) ترجمہ:۔تو کہہ دے کہ اگر خدائے رحمن کا کوئی بیٹا ہوتا تو میں اس کی سب سے پہلے عبادت کرتا۔یہ ایک امکانی اور مشروط بیان ہے کہ اگر ایسا ہو تو اس کے نتیجہ میں یہ ہوتا۔مگر حقیقت میں ایسا نہیں ہے۔اسی طرح فرمایا: وو لَو كَانَ فِيهِمَا أَلِهَةٌ إِلَّا اللَّهُ لَفَسَدَنَا (الانبياء : 23 ) ترجمہ۔اگر دونوں (یعنی زمین و آسمان ) میں اللہ کے سوا اور بھی معبود ہوتے تو یہ دونوں تباہ ہو جاتے۔بعینہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دلیل قائم فرمائی ہے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں: بڑے دھو کہ کی بات یہ ہے کہ اکثر لوگ دشنام دہی اور بیان واقعہ کو ایک ہی صورت میں سمجھ لیتے ہیں اور ان دونوں مختلف مفہوموں میں فرق کرنا نہیں جانتے۔بلکہ ایسی ہر ایک بات کو جو دراصل ایک واقعی امر کا اظہار ہو اور اپنے محل پر چسپاں ہو محض اس کی کسی قدر مرارت کی وجہ سے جوحق گوئی کے لازم حال ہوا کرتی ہے دشنام ہی تصور کر لیتے ہیں حالانکہ دشنام اور سب اور شتم فقط اس مفہوم کا نام ہے جو خلاف واقعہ اور دروغ کے طور پر محض آزار رسانی کی غرض سے استعمال کیا جائے۔اور اگر ہر ایک سخت اور آزار دہ تقریرکو محض بوجہ