شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 108 of 670

شیطان کے چیلے — Page 108

107 غیب سے اِنِّی اَنَا رَبُّكَ کی آواز آئی اور ایسے اسرار ظاہر ہوئے کہ جن تک عقل اور خیال کی رسائی نہ تھی سو اب اس کتاب کا متولی اور مہتم ظاہر و باطناً حضرت رب العالمین ہے اور کچھ معلوم نہیں کہ کس اندازہ اور مقدار تک اس کو پہنچانے کا ارادہ ہے اور سچ تو یہ ہے کہ جس قدر اس نے جلد چہارم تک انوار حقیقت اسلام کے ظاہر کئے ہیں یہ بھی اتمام حجت کے لئے کافی ہیں۔(براہین احمدیہ حصہ چہارم۔روحانی خزائن جلد 1 - آخری صفحہ ) گویا اب حالات بدل گئے اور مشیت ایزدی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارادہ کو ایک اعلیٰ مقصد کی ادائیگی کی طرف پھیر دیا۔یہ تو ہر مسلمان کو علم ہے کہ ایک رؤیا کی بنا پر نبی کریم حج پر تشریف لے گئے اور اپنے ہمراہ قربانیاں بھی لے گئے۔لیکن حج کی بجائے عمرہ ہی کر سکے تو فرمایا " لو استقبلت من امری ما استدبرت ما سقت الهدى معى 66 (مشکوۃ کتاب الحج۔باب قصة حجۃ الوداع ) کہ اگر مجھے اس معاملہ کی پہلے خبر ہوتی تو میں اپنے ساتھ قربانی کے جانور نہ لاتا۔“ ( یعنی حالات کی تبدیلی کی وجہ سے مجبوراً عمرہ پر ہی اکتفا کرنا پڑا۔) پس یہ مسلمہ سچائی ہے کہ حالات کے بدلنے سے پروگرام بدل جایا کرتے ہیں۔خصوصاً اعلیٰ مقاصد کے لئے ادنی وعدے کا لعدم قرار پا جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ایک اعلیٰ منصب پر مامور فرما کر آپ کے حالات بدل دیئے۔اس لئے براہین احمدیہ بھی اس صورت میں مکمل نہ ہوسکی جس طرح حضور پہلے ارادہ رکھتے تھے۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ایک ادنی وعدہ تھا جو منشائے الہی سے حالات بدل جانے کے باعث بہت اعلیٰ رنگ میں پورا ہوا۔اس کا نام خلاف وعدہ رکھنا غلطی ہے۔تین سو (300) دلائل کے متعلق حضور نے تحریر فرمایا ہے کہ ” میں نے پہلے ارادہ کیا تھا کہ اثبات حقیقت اسلام کے لئے تین سو دلائل براہین احمدیہ میں لکھوں لیکن جب میں نے غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ یہ دو قسم کے دلائل ( اعلیٰ تعلیمات اور زندہ معجزات۔ناقل ) ہزار ہا نشانوں کے قائم مقام ہیں۔پس خدا نے میرے دل کو اس ارادہ سے پھیر دیا اور مذکورہ بالا دلائل کے لکھنے کے لئے مجھے شرح صدر عنایت کیا۔“ (دیباچه براہین احمدیہ حصہ پنجم۔روحانی خزائن جلد 21)