شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 75 of 670

شیطان کے چیلے — Page 75

75 اشاعۃ السنية جلد نمبر 9 صفحہ 284) مولف براہین احمدیہ مخالف اور موافق کے تجربے اور مشاہدے کی رو سے والله حسيبه شریعت محمدیہ پر قائم ، پرہیز گار اور صداقت شعار ہے۔“ ii۔نوکر جہاں تک نبی کے نوکری کرنے کا تعلق ہے اس کے متعلق اس معترض کے پیش رو دیو بندی اور اہل حدیث خود تسلیم کرتے ہیں اور انہیں ماننا پڑتا ہے کہ نبی کسی غیر نبی کی نوکری کر سکتا ہے۔کیونکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام کی نوکری کا کھلم کھلا ذکر فرمایا ہے۔علاوہ ازیں یہ کہنا ویسے ہی بڑی بے عقلی کی بات ہے کہ نبی نوکری نہیں کر سکتا۔آخر کیوں نہیں کر سکتا ؟ یہ لوگ اس کی کوئی دلیل نہیں دیتے، کوئی بنیاد نہیں بتاتے اور نہ ہی کسی کتاب کا حوالہ مہیا کرتے ہیں۔لیکن جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے کہ قران کریم نے ایک ایسے نبی کا واضح طور پر ذکر کیا ہے جس نے غیر قوم کی نوکری کی اور خود اپنی خواہش سے مال کا شعبہ طلب کیا۔حضرت یوسف علیہ السلام کے متعلق اہلِ حدیث کے ایک عالم مولوی ثناء اللہ امرتسری لکھتے ہیں کہ:۔وو ہم قرآن مجید میں یہ پاتے ہیں کہ حضرت یوسف علیہ السلام کا فر بادشاہ کے ماتحت انتظامِ سلطنت کرتے تھے۔کسی ایک نبی کا فعل بھی ہمارے لئے اسوہ حسنہ ہے۔“ وو اہلحدیث امرتسر 16 نومبر 1945ء صفحہ 4) پھر اہل حدیث اپنی اشاعت 25 اکتو بر 1946 ء ،صفحہ 3 میں لکھتا ہے: حضرت یوسف علیہ السلام سے لے کر حضرت مسیح علیہ السلام تک کئی رسول اور نبی ایسے ہوئے ہیں جو اپنے زمانہ کی حکومتوں کے ماتحت رہے۔“ 66 ہم نے پہلے بھی لکھا تھا کہ ان کے حملوں کی زد سید الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ پر بھی پڑتی ہے اور دیگر سابقہ انبیاء علیہم السلام پر بھی۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر یہ اعتراض کرنے سے پہلے اگر یہ آنحضرت ﷺ کے دربار میں حاضر ہوتے تو آپ ان کو بتاتے کہ تمہارا یہ حملہ درست نہیں کیونکہ كنت ارعاها على قراريط لاهل مكة “ ( بخاری۔کتاب الاجارہ۔باب رعی الغنم ) کہ میں کچھ قیراط لے کر مکہ والوں کی بکریاں چرایا کرتا تھا۔آنحضرت ﷺ کے بکریاں چرانے کا ذکر خود سید عبدالحفیظ نے ” ہم اللہ کو کیوں مانیں“ کے صفحہ 78 پر بھی کیا۔قرآن کریم میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کا