شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 51 of 670

شیطان کے چیلے — Page 51

51 اپنی دلیل کو ثابت کرنے کے لئے اسے بھی نظر انداز نہیں کیا۔چنانچہ وہ اس طرح بے ادبی کرتا ہے اللہ تعالیٰ مجھے ایسی بے حرمتی کا حوالہ دینے سے معاف فرمائے) یہ لکھنے کے بعد وہ لکھتا ہے۔"And God chose such a despicable place to bury the Holy prophet (P۔B۔O۔H) Which is extremely stiking and dark and cramped and was the (Roohani Khazain vol۔17۔p۔205) placeace of the excreta of insects۔۔۔۔" الله جس عبارت کا حوالہ راشد علی نے دیا ہے اس جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حیات مسیح علیہ السلام کا عقیدہ رکھنے کی وجہ سے آنحضرت ﷺ کی جو تو ہین اور آپ کے مقام میں جو تخفیف لازم آتی ہے اس سے مسلمانوں کو آگاہ کیا ہے اور ان کو جھنجھوڑا ہے کہ اگر وہ حضرت عیسی علیہ السلام کو آسمان پر زندہ مانتے ہیں تو پھر آپ کئی اعتبار سے سید الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ سے بہتر ثابت ہوتے ہیں۔اس دلیل کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نہ مذکورہ بالا حوالہ میں اور نہ ہی کسی اور جگہ کوئی ایسی بات تحریر کی ہے جس میں آنحضرت ﷺ کی تدفین یا آپ کے روضہ اطہر کی تو ہین کا شائبہ تک بھی ہو۔یہ راشد علی کی انتہائی ظالمانہ اختراع ہے جو اس نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف منسوب کی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ حیات مسیح کا عقیدہ ایک ایسا زہرناک عقیدہ ہے کہ جس کی آڑ میں عیسائی متاد ہمارے آنحضرت ﷺ کی شان میں ایسی گستاخیاں کرتے تھے کہ جو ایک سچے مسلمان کو خون کے آنسو رلاتی تھیں مگر وہ اپنے اس عقیدہ کی وجہ سے بے بس تھا۔عیسائی پادری اپنے دلائل میں یہ بھی بیان کرتے تھے کہ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام آنحضرت سے افضل تر اور خدا تعالیٰ کے زیادہ محبوب ہیں اس کی دلیل وہ یہ دیتے تھے کہ جب آپ پر مصیبت کا صلى الله وقت آیا تو خدا تعالیٰ نے آپ کو زندہ آسمان پر اٹھا لیا اور اپنے قرب میں جگہ دی مر محمد ﷺ پر جب مشکل کا وقت آیا تو خدا تعالیٰ نے کوئی پرواہ نہ کی چنانچہ آپ کو حشرات الارض کی آماجگاہ غار ثور میں پناہ لینی پڑی۔وغیرہ وغیرہ۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عیسائیوں کی ایسی گستاخیوں پر اپنے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ کے لئے اپنی طبعی غیرت سے معمور ہو کر ان منہ پھٹ پادریوں کا منہ توڑ جواب دیا ہے مگر مسلمانوں کی حالت پر افسوس کرتے ہوئے ان کی غیرت کو جھنجھوڑا اور کہا مسلمان ہوتے ہوئے بھی تمہارا یہ