شیطان کے چیلے — Page 49
49 صدیقہ کا اپنے منسوب یوسف کے ساتھ گھومنا اس رسم پر پختہ شہادت ہے۔“ ۵۔ان کی اخلاقی حالت بھی یہودیوں سے ملتی ہے۔سرحدی پٹھانوں / افغانوں کی زود رنجی ، تلون مزاجی ، خود غرضی ، گردن کشی ، سج مزاجی ، کج روی ، دوسرے جذبات نفسانی ، خونی خیالات، جاہل اور بے شعور ہونا، یہ تمام صفات وہی ہیں جو تو ریت اور دوسرے صحیفوں میں اسرائیلی قوم کی لکھی گئی ہیں اور اگر قرآن شریف کھول کر سورہ بقرہ سے بنی اسرائیل کی صفات اور عادات اور اخلاق اور افعال پڑھنا شروع کرو تو ایسا معلوم ہوگا کہ سرحدی افغانوں (پٹھانوں) کی اخلاقی حالتیں بیان ہو رہی ایام الصلح۔روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 201 تا 299 ) ہیں۔“ یہ فہرست بڑی طویل ہے۔مگر ان چند حوالہ جات سے قارئین کو مرزا غلام احمد قادیانی کی ذہنی پستی اور خباثت کا بخوبی اندازہ ہو گیا ہوگا۔“ ( بے لگام کتاب ) یہ تو راشد علی اور اس کے پیر کی ذہنی پستی اور خباثت ہے کہ ایک پوری غیور قوم کے حسب ونسب کو بدلنے کی کوشش کی ہے۔یہود حضرت یعقوب علیہ السلام کی اولا دہونے کے باعث بنی اسرائیل کہلاتے ہیں۔صحیح النسل ہونا کیونکر توہین کا موجب ہوسکتا ہے۔اس قوم کے لئے یہودی النسل ہونا شاید تب تو ہین کا الله موجب ہوتا جب وہ سید الانبیاء حضرت محمد مصطفی ﷺ پر ایمان نہ لاتے۔یہ تو ان کی غیرت کی بلندی اور ایمان کی عظمت کا نشان ہے کہ جب انہوں نے اس عظیم الشان عالمگیر نبی کی آمد کا سنا جس کی حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خبر دی تھی تو وہ رحمۃ للعالمین حضرت محمد ﷺ پر ایمان لے آئے جیسے حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ نے یہودی النسل ہوتے ہوئے بھی حضرت محمد مصطفی ﷺ کو قبول کیا اور ایسا بلند مقام حاصل کیا کہ ہر مسلمان کے لئے قابل تقلید ہے۔یہ تو راشد علی اور اس کے پیر کی اپنی بے غیرتی ہے کہ وہ کسی قوم کے حقیقی حسب و نسب کو تبدیل کر رہے ہیں۔لیکن در حقیقت تاریخی حقائق اور قائم شدہ سچائیوں کو پرلے درجہ کے جھوٹے اور کذاب کبھی بھی نہیں بدل سکتے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب ” مسیح ہندوستان میں“ اور ” راز حقیقت میں ٹھوس تاریخی ، واقعاتی اور دستاویزی ثبوتوں کے ساتھ مذکورہ بالا حقیقت کو تحریر فرمایا ہے۔چنانچہ آپ فرماتے ہیں: چونکہ بنی اسرائیل بخت النصر کے حادثہ میں متفرق ہو کر بلا دہند اور کشمیر اور تبت اور چین کی وو طرف چلے آئے تھے اس لئے حضرت مسیح علیہ السلام نے ان ہی ملکوں کی طرف ہجرت کرنا ضروری سمجھا اور