شیطان کے چیلے — Page vii
ان پر لوٹا نالازمی ہو جاتا ہے۔کیونکہ جب تک ان کو ان کی فطرت کے مطابق جواب نہ ملے وہ سمجھنا نہیں چاہتے۔چنانچہ ان کے ظالمانہ ہاتھ کو روکنے کے لئے بعض اوقات ایسا کرنا قرآن حکیم کے حکم کے تحت لا بدی ہو جاتا ہے۔پس خاکسار نے اپنی جوابی کتاب میں نہ چاہتے ہوئے بھی قدرے درشتی کے ساتھ ان کا کذاب اور بدیانت ہونا ثابت کیا ہے۔اس درشتی میں در اصل بل انہوں نے کی ہے اس لئے ان عُدتُم عُدنا “ (بنی اسرائیل :9 ) ( کہ تم اگر لوٹے تو ہم بھی لوٹیں گے ) کے تحت خاکسار نے صرف ایک پہلو میں ان کا حربہ انہیں پر لوٹایا ہے۔خاکسار ان لوگوں سے تہہ دل سے معذرت خواہ ہے جن کو یہ طرز پسند نہیں۔ان سے امید ہے کہ خاکسار کو اشد مجبوری کی بناء پر قرآنی حکم کی اس رخصت سے فائدہ اٹھانے پر ضرور معاف کر دیں گے۔جیسا کہ پہلے عرض کی گئی ہے کہ راشد علی اور اس کے پیر سید عبدالحفیظ نے بھی بعض جگہ اعتراضات کو بار بار پیش کیا ہے جو تقریبا گذشتہ ایک صدی سے پیٹتے چلے آ رہے ہیں۔گوانہوں نے اعتراضات کی کچھ طرز بھی بدلی ہے اور نئے اعتراض بھی اٹھائے ہیں۔چنانچہ ان لوگوں کو مخاطب کر کے ہمارے ایک بھائی مکرم نعیم عثمان صاحب مرحوم نے ان کے 1992 ء تک کے اعتراضات کا علمی اور مدلل جواب انگریزی میں اپنی کتاب” Three in One میں دیدیا تھا۔اس کا نہ تو انہوں نے کوئی علمی طور پر جواب دیا اور نہ ہی وہ اپنے جھوٹے اور غلیظ پروپیگنڈے سے باز آئے۔اس لئے ان پر حجت پوری کرنے کے لئے ، ان کے بعد کے جملہ اعتراضات کو اکٹھا کر کے خاکسار نے کوشش کی ہے کہ اس جوڑی کا مکمل ادہارا تار دے اور خاکسار نے یہ کوشش کی ہے کہ قرآن کریم، حدیث نبوی کی نصوص سے مدلل بنائے اور امت کے مسلّمہ اور مستندلٹریچر نیز عقلی و نقلی استدلالات اور واقعات کے قریب تر رہ کر اپنی جوابی دلیل کو پیش کرے۔راشد علی نے کراچی کے ایک شخص الیاس ستار کے لایعنی اعتراضات کو بھی مسلسل بڑی تحدی اور چیلنج کے ساتھ پیش کیا ہے۔اس کتاب میں اس کی تحدی اور چیلنج کا بھی علمی اور بھر پور جواب دیا گیا ہے۔الیاس ستار اپنے پمفلٹ " کیا احمدی جواب دے سکتے ہیں“ کو ہی معمولی کمی بیشی کے ساتھ بار بار شائع کرتا رہتا ہے۔اس کے رسالے بے تاریخ ہیں اور ان رسالوں کے صفحات بغیر نمبر کے ہیں۔اس لئے جہاں پورا