شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 40 of 670

شیطان کے چیلے — Page 40

40 کریم کی نص صریح کے خلاف ٹھہرتے ہیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے سورج کے طلوع کے متعلق اپنی سنت یہ بیان فرمائی ہے کہ فَإِنَّ اللَّهَ يَأْتِي بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ (البقرہ:259) کہ اللہ تعالیٰ سورج کو مشرق سے لاتا ہے۔پس اس کے پیش نظر ضروری ہے کہ استعارہ پر مشتمل آنحضرت ﷺ کی اس پیشگوئی کے تو جیہی معنے ہی کئے جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی ﷺ کے ہر فرمان پر کامل ایمان اور آپ کی ہر پیشگوئی کے پورا ہونے پر مکمل یقین رکھتے تھے۔آنحضرت ﷺ نے قرب قیامت کی جو نشانیاں بیان فرمائیں ، آپ نے ان کی وہ تو جیہ پیش فرمائی جو حقیقی ہے اور خدا تعالیٰ کے طبعی قوانین قدرت کے عین مطابق ہے۔چنانچہ آپ نے اپنی عربی کتاب ” حمامۃ البشری میں اپنی پیش کردہ تو جیہات کے جو دلائل پیش فرمائے ان کا ترجمہ قارئین کے استفادہ کے لئے پیش ہے۔آپ فرماتے ہیں: اس ضمن میں تفصیلی کلام یہ ہے کہ قیامت کی علامات کی دو قسمیں ہیں۔علامات صغریٰ اور علاماتِ کبری۔دو علامات صغری یا تو اپنی ظاہری صورت میں ہی ظاہر ہوں گی یا پھر ان کا وجود استعارات کے پیرایہ میں منکشف ہوگا۔لیکن علامات کیرئی اپنی ظاہری صورت میں ہرگز ظاہر نہ ہوں گی بلکہ لازمی طور پر استعارات اور مجازات کے پیرا یہ میں ہی ظاہر ہوں گی۔اس میں راز یہ ہے کہ وہ گھڑی یقینا اچانک آئے گی جس طرح اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: يَسْئَلُونَكَ عَنِ السَّاعَةِ أَيَّانَ مُرسَهَا قُل إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ رَبِّي لَا يُجَلِّيهَا لِوَقتِهَا إِلَّا هُوَ ثَقُلَت فِي السَّمَوَاتِ وَالأَرض لَا تَاتِيكُم إِنَّا بَعْتَةٌ ، يَسْئَلُونَكَ كَأَنَّكَ حَفِيٌّ عَنهَا قُل إِنَّمَا عِلْمُهَا عِندَ اللهِ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ O (الاعراف (188: ط ترجمہ :۔(اے رسول) تیرے مخالف تجھ سے قیامت کے متعلق سوال کرتے ہیں کہ وہ کب آئے گی۔تو کہہ دے کہ اس کا علم صرف میرے رب کو ہے اس کو اپنے وقت پر صرف وہی ظاہر کرے گا۔وہ بھاری ہوگی آسمانوں میں بھی اور زمین میں بھی۔وہ تمہارے پاس صرف اچانک آئے گی وہ تجھ سے قیامت کے متعلق