شیطان کے چیلے — Page 615
612 اور تف تو ان نام نہاد علماء پر ہے جو ایسی تضحیک اور ایسے استہزاء کو خدا تعالیٰ کی طرف سے الہامی قرار دیتے ہیں۔کتاب ”دعوۃ الامیر کی تحریر پر خط طعن دراز کرنے سے پہلے الیاس ستار کو ایک لمحہ کیلئے یہ تو سوچنا چاہئے تھا کہ اس کا یہ طعن حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد رضی اللہ عنہ کی تحریر اور استدلال پر نہیں بلکہ اس الہامی مضمون پر ہے جو ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم پر خدا تعالیٰ نے ظاہر فرمایا۔یہ کسی احمدی کی تراشی ہوئی بات نہیں بلکہ مشہور اور مستند کتب احادیث میں درج ہے جس کے مطابق جماعت احمدیہ نے اپنے عقیدہ کی سچائی کو پیش کیا ہے۔یہ ایک صحیح اور سچی حدیث ہے جو ایک طریق سے نہیں بلکہ کم از کم تین طریقوں سے مروی ہے یعنی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے، حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اور حضرت فاطمتہ الزھراء رضی اللہ عنہا سے۔اہلِ حدیث کے مسلّمہ بزرگ اور جید عالم نواب صدیق حسن خان بھی اس حدیث کے صحیح اور مستند اور ثقہ ہونے کا اعلان یوں کرتے ہیں کہ ” اخرج الطبراني في الكبير بسند رجال ثقات۔66 نج الکرامہ - صفحہ 428 مطبوعہ مطبع شاہجہان بھوپال) ترجمہ :۔طبرانی نے جامع الکبیر میں اسے ثقہ راویوں کی سند کے ساتھ پیش فرمایا ہے۔اس حدیث کو محد ثین و مفسرین نے کثرت کے ساتھ اپنی کتب میں درج کیا ہے۔کتب احادیث و تفاسیر میں اس کا بکثرت موجود ہونا اس کی صحیح ہونے کی ناقابل رڈ دلیل ہے۔چنانچہ یہ حسب ذیل کتب میں بھی مذکور ہے۔کنز العتمال ، مستدرک حاکم تغییر المواہب اللدنیہ، تفسیر جامع البیان للطبری، تفسیر جلالین تفسیر ابن کثیر اور رنج الکرامہ وغیرہ۔اس کی صحت پر کوئی اس وجہ سے بھی انگلی نہیں اٹھا سکتا کہ یہ حدیث اپنی سچائی اور صحت کی ٹھوس اندرونی گواہی بھی اپنے ساتھ رکھتی ہے۔اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ جو بیان فرمایا ہے کہ جبریل نے امسال مجھے دو دفعہ قرآن کریم سنایا ہے۔یہ ایسا واقعہ ہے جو عملاً رونما ہوا۔اس سے کسی ایک