شیطان کے چیلے — Page 614
611 ایک لاکھ چوبیس ہزار 1,24,000، پیغمبر گزرے ہیں۔چند پیغمبروں کی عمر پر غور کریں تو اس نتیجے پر پہنچتے ہیں۔حضرت آدم علیہ السلام کی عمر 122880 سال ہوئی حضرت شیش علیہ السلام کی عمر 61440 سال ہوئی حضرت نوح علیہ السلام کی عمر 30720 سال ہوئی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی عمر 15360 سال ہوئی حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عمر 7680 سال ہوئی حضرت یعقوب علیہ السلام کی عمر 3840 سال ہوئی حضرت یوسف علیہ السلام کی عمر 1920 سال ہوئی حضرت موسی علیہ السلام کی عمر 960 سال ہوئی حضرت داؤد علیہ السلام کی عمر 480 سال ہوئی حضرت سلیمان علیہ السلام کی عمر 240 سال ہوئی حضرت عیسی علیہ السلام کی عمر 120 سال ہوئی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر 60 سال ہوئی مرزا غلام احمد کی عمر 30 سال ہوئی اگلے نبی کی عمر 15 سال ہوئی وو دعوۃ الا میر“ کے صفحہ 16 کی تحریر کے مطابق حضرت آدم کی عمر 1,22,880‘ سال ہونی چاہئے جس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ ابھی تک زندہ ہیں اور حضرت شیش ” حضرت نوح ” اور حضرت ابراہیم کو بھی ابھی تک زندہ ہونا چاہئے اور مرزا صاحب کو صرف 30 سال کی عمر میں ہی فوت ہو جانا چاہئے تھا کیونکہ حضرت محمد کی عمر 60 سال کے قریب تھی اس لئے ان کے بعد آنے والے نبی کی عمر 60 سال سے آدھی یعنی 30 سال ہونی چاہئے۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ مرزا صاحب کو تو نبوت کا دعویٰ کرنے سے پہلے ہی فوت ہو جانا چاہئے تھا کیونکہ انہوں نے جب نبوت کا دعویٰ کیا تو اس وقت ان کی عمر 30 سال سے بہت زیادہ تھی۔“ معزز قارئین ! حدیث نبوی پر الیاس ستار کے اس استہزاء پر ہم سوائے انا للہ وانا الیہ راجعون“ کے اور کیا کہہ سکتے ہیں۔جو شخص حبیب کبریا ، خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات کو ہدف 66 تضحیک اور استہزاء بنانے سے بھی باز نہیں رہتا اس سے کسی اور کا کلام کس طرح محفوظ رہ سکتا ہے۔لیکن افسوس