شیطان کے چیلے — Page 613
610 جس میں آپ فوت ہوئے، فرمایا: انـجبـريـل كـان يـعـارضـنـى القرآن في كل عام مرة و أنّـه عارضني القرآن العام مرتين وأخبرنى أنّه لم يكن نبي الاعاش نصف الذي قبله و أخبرني أن عيسى ابن مريم عاش عشرين و مأة سنةً ولا أراني الا ذاهباً على رأس الستين۔“ (مواہب لدنیہ مصنفہ قسطلانی جلد 1 صفحہ 42 یعنی جبرائیل ہر سال ایک دفعہ مجھے قرآن سناتے تھے مگر اس دفعہ دو دفعہ سنایا ہے اور مجھے انہوں نے خبر دی ہے کہ کوئی نبی نہیں گزرا کہ جس کی عمر پہلے نبی سے آدھی نہ ہوئی ہو اور یہ بھی انہوں نے مجھے خبر دی ہے۔کہ عیسی ابن مریم ایک سو بیس سال کی عمر تک زندہ رہے تھے۔پس میں سمجھتا ہوں کہ میری عمر ساٹھ سال کے قریب ہوگی۔اس روایت کا مضمون الہامی ہے کیونکہ اس میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی طرف سے کوئی بات بیان نہیں فرماتے۔بلکہ جبرائیل علیہ السلام کی بتائی ہوئی بات بتاتے ہیں جو یہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی عمر ایک سو بیس سال کی تھی۔پس لوگوں کا یہ خیال کہ آپ بتیس (32) تینتیس (33) سال کی عمر میں آسمان پر اُٹھائے گئے تھے غلط ہوا ، کیونکہ حضرت مسیح اس عمر میں آسمان پر اُٹھائے گئے تھے تو آپ کی عمر بجائے ایک سو بیس سال کے رسول کریم کے زمانے تک قریباً چھ سو سال کی بنتی ہے اور اس صورت میں چاہئے تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کم سے کم تین سو سال تک عمر پاتے ،مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا تریسٹھ سال کی عمر میں فوت ہو جانا اور الہاما آپ کو بتایا جانا کہ حضرت عیسی علیہ السلام ایک سو بیس سال کی عمر میں فوت ہو گئے ثابت کرتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی زندگی اور آسمان پر آپ کا بیٹھا ہو نا رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے سراسر خلاف ہے اور آپ کے الہامات اسے رد کرتے ہیں اور جب امر واقع یہ ہے تو ہم لوگ کسی کے کہنے سے کس طرح حضرت مسیح علیہ السلام کی حیات کے قائل ہو سکتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ سکتے ہیں۔“ ( دعوۃ الامیر - صفحہ 16 - مطبوعہ الشركة الاسلامیہ لمیٹڈ۔لندن ) اس اقتباس کی سادہ اور سلیس اردو نہ سمجھ سکنے کی وجہ سے الیاس ستار نے اس میں مذکورہ حدیث نبوی پر حسب ذیل تضحیک بھی کی ہے اور پھر ” ہائے 120 ہائے 120 ہائے 120 کے سوقیانہ نعرے بھی لگائے ہیں۔وہ لکھتا ہے کہ وو مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کی تحریر کے مطابق ہر نبی کی عمر پچھلے نبی کی عمر سے آدھی ہوتی ہے۔سنا ہے۔کہ