شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 586 of 670

شیطان کے چیلے — Page 586

583 سب آپ کی پاک تعلیم پر ایمان رکھتے تھے۔لہذا اس سچائی سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی زندگی میں بحیثیت مجموعی عیسائی حق پر قائم تھے اور جہاں حضرت عیسی علیہ السلام خود بنفس نفیس موجود تھے (جیسا کہ آیت وَكُنْتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَا دُمْتُ فِیهِم“ سے پوری طرح واضح ہے ) وہاں ہرگز شرک راہ نہیں پاسکا اور آپ کے زیر اثر اور زیر نگرانی آپ کے ساتھی اور حواری اسی تو حید پر قائم رہے لیکن جو آپ کی براہ راست نگرانی کے دائرہ سے باہر تھے ان میں سے صرف ایک حصہ میں شرک کی ابتدا ہوئی۔پس مہجور علاقہ کی ایک بہت ہی محدود جماعت میں شرک کی ابتدا اور تخم ریزی سے کل عیسائیت کو بگڑا ہو اور مشرک قرار نہیں دیا جا سکتا۔پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کتاب ” انجام آتھم میں جس مذکورہ بالا بحث کو اٹھایا ہے وہ آیت کریمہ ( فلما توفیتنی ) کی سچائی کو ثابت کرتی ہے لیکن جس بحث میں الیاس مطار الجھا ہے وہ واضح طور پر آیت کریمہ کی تکذیب کے سوا کچھ نہیں۔دوسری عبارت الیاس ستار نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب ” مسیح ہندوستان میں “ سے پیش کی ہے۔اس نے جس تفصیلی تحریر سے وہ مختصر عبارت لی ہے، وہ یہ ہے۔آپ فرماتے ہیں: ’ اور احادیث میں معتبر روایتوں سے ثابت ہے کہ ہمارے نبی ﷺ نے فرمایا کہ مسیح کی عمر 125 برس کی ہوئی ہے۔اور اس بات کو اسلام کے تمام فرقے مانتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام میں دو ایسی باتیں جمع ہوئی تھیں کہ کسی نبی میں وہ دونوں باتیں جمع نہیں ہوئی (۱) ایک یہ کہ انہوں نے کامل عمر پائی یعنی 125 برس زندہ رہے (۲) دوم یہ کہ انہوں نے دنیا کے اکثر حصوں کی سیاحت کی۔اس لئے نبی سیاح کہلائے۔اب ظاہر ہے کہ اگر وہ صرف تینتیس 33 برس کی عمر میں آسمان کی طرف اٹھائے جاتے تو اس صورت میں ایک سو پچیس برس کی روایت صحیح نہیں ٹھہر سکتی تھی اور اس چھوٹی عمر میں تینتیس برس میں سیاحت کر سکتے تھے۔اور یہ روایتیں نہ صرف حدیث کی معتبر اور قدیم کتابوں میں لکھی ہیں بلکہ تمام مسلمانوں کے فرقوں میں اس تواتر سے مشہور ہیں کہ اس سے بڑھ کر متصور نہیں۔کنز العمال جو احادیث کیا ایک جامع کتاب ہے اس کے صفحہ 43 میں ابو ہریرہ سے یہ حدیث لکھی ہے۔اوحی اللہ تعالی الی عیسی ان یا عيسـى انـتـقـل مـن مكان الى مكان لئلا تعرف فتوذی (جلد دوم) یعنی اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسی