شیطان کے چیلے — Page 582
579 پس اس قطعی سچائی کو قبول کرنے میں الیاس ستار کو کسی قسم کی دقت نہیں ہونی چاہئے۔وہ خوامخواہ پولوس کے پیچھے چل پڑا ہے اور اس کی عمر کے سال گننے لگا ہے۔حالانکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب انجام آتھم کی اس زیر بحث تحریر کے کسی ایک فقرے سے بھی ظاہر نہیں ہوتا کہ آپ نے یہ فرمایا ہو کہ پولوس نے حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کے بعد عیسائی مذہب میں فساد ڈالا تھا۔الیاس ستار کا اعتراض تو تب درست ہو سکتا تھا اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہاں مسلمانوں کے مسلمات کے پیشِ نظر آیت ”فلما توفیتنی“ کی بحث کے تحت یہ فرماتے کہ پولوس نے بعد از وفات عیسی علیہ السلام ، عیسائی مذہب میں فساد ڈالا تھا۔لیکن آپ نے یہ بالکل نہیں فرمایا بلکہ یہ تحریر فرمایا کہ ایک شریر یہودی پولوس نام۔۔۔حواریوں میں آملا اور ظاہر کیا کہ میں نے عالم کشف میں عیسیٰ علیہ السلام کودیکھا ہے۔اس شخص نے عیسائیت میں بہت فساد ڈالا “ پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریر میں کسی قسم کا کوئی ابہام نہیں ہے۔الیاس ستار کا اعتراض محض اس کے اپنے ذہنی الجھاؤ کا نتیجہ ہے۔علاوہ ازیں الیاس ستار نے اس زیر بحث اقتباس سے جو نتائج اخذ کئے ہیں وہ بھی بالبداہت غلط ہیں۔کیونکہ اس تحریر سے جو نتائج نکلتے ہیں وہ یہ ہیں۔☆ در حقیقت حواریوں کے زمانہ میں ہی عیسائی مذہب میں شرک کی تخم ریزی ہو گئی تھی۔کیونکہ آپ 66 نے یہ فرمایا ہے کہ ”حواریوں کے عہد میں ہی خرابی شروع ہو گئی تھی۔“ اور ” در حقیقت حواریوں کے زمانہ میں ہی عیسائی مذہب میں شرک کی تخم ریزی ہو گئی تھی۔آیت کریمہ ” فـلـمـا تـوفیتنی“ بتاتی ہے کہ عیسائیوں میں کمی فساد اور بگاڑ حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کے بعد ہوا۔( کیونکہ تخم ریزی کا لفظ ابتداء پر دلالت کرتا ہے۔یعنی شرک اور فساد کی ابتداء جزوی طور پر پولوس کے ذریعہ حواریوں کے دور ہی میں شروع ہوئی اور بالآخر بعد از وفات عیسی علیہ السلام اس دور پر منتج ہوئی جس میں عیسائی مذہب کلیہ اس کی آغوش میں آ گیا۔) حواریوں کے زمانہ میں ہی پولوس نے عیسائی مذہب میں فساد ڈالا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ گو عیسائیوں کا ایک فرقہ تو توحید پر قائم رہا مگر ایک خبیث فرقہ اس کے اغوا سے مردہ پرست ہو گیا۔تیسری صدی عیسوی میں مشرک فرقہ اور مؤحد فرقہ کے درمیان بڑا مباحثہ ہوا جس میں مؤحد فرقہ