شیطان کے چیلے — Page 575
572 کی طرف احادیث میں اشارہ کر کے کہا گیا۔کہ آنے والا مسیح دمشق کی مشرقی طرف نازل ہوگا۔(چشمہ مسیحی۔صفحہ 377) اس کتاب چشمہ مسیحی میں مرزا صاحب صاف طور پر فرمارہے ہیں کہ حضرت عیسی کو پولوس نے خدا بنا یا تھا۔پولوس کا انتقال 64ء یا65 ء میں ہوا۔اس دلیل کے طور پر ملاحظہ کریں کتاب 100 The " سے ماخوذ ہے۔(St۔Paul (0۔4 ad cc۔64 a۔d فائنل بحث (۱) مرزا صاحب نے مسیح ہندوستان میں میں صاف طور پر یہ فرما دیا کہ حضرت عیسی 120 ء میں فوت ہوئے۔(۲) مرزا صاحب نے انجام آتھم میں صاف فرما دیا کہ 120 ء سے پہلے شرک کی تخم ریزی کی کوئی گنجائش نہیں یعنی شرک کی تخم ریزی ۰۲۱ ء کے بعد ہوئی۔(۳) مرزا صاحب نے چشمہ مسیحی میں فرما دیا کہ پولوس نے حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا بنادیا۔پولوس کا انتقال 65ء میں ہوا۔یعنی حضرت عیسی کے فوت ہونے کے 55 سال پہلے پولوس مر گیا۔چونکہ حضرت عیسی مرزا صاحب کے تحت 120ء میں فوت ہوئے۔مرزا صاحب نے خود قرآن مجید کی آیت ( فلما توفیتنی) کے ذریعے دعوی کیا کہ عیسائی صرف حضرت عیسی کی زندگی تک حق پر قائم رہے۔لیکن اپنی ہی کتابوں کو اس آیت کی روشنی میں صحیح ثابت نہ کر سکے۔کیونکہ مذکورہ آیت میں ثابت کر رہے ہیں۔کہ حضرت عیسی کی وفات کے بعد عیسائیت میں شرک کی تخم ریزی ہوئی۔اور غلطی سے اپنی دوسری کتاب میں عیسی کے فوت ہونے سے کم از کم 55 سال پہلے پولوس کے ذریعے ان کو خدا بنا دیا۔مرزا صاحب کی غلطی کی وجہ سے ان کی کتابوں کے تحت حضرت عیسی جب کشمیر میں زندہ تھے۔تب ان کو فلسطین وغیرہ میں خدا اور خدا کا بیٹا بنا دیا گیا اگر مرزا صاحب زندہ ہوتے اور ان کی خدمت میں یہ مضمون پیش کیا جاتا تو کیا مرزا صاحب یہ کہہ سکتے تھے۔کہ میرے سے غلطی ہوگئی۔کیونکہ میں ایک بشر ہوں۔مرزا صاحب نے اپنی اس دلیل میں اللہ کی مدد شامل ہونے کا دعوی کیا تھا۔جس دلیل میں اللہ کی مدد شامل ہو۔کیا وہ دلیل غلط ہوسکتی ہے؟ اللہ تعالیٰ سے غلطی نہیں ہوتی۔صرف مرزا صاحب کا دعویٰ غلط ہے۔ایک اور مزے کی بات یہ ہے کہ مرزا صاحب کہتے ہیں کہ حضرت عیسی کو 33 سال کی عمر میں صلیب پر چڑھایا گیا تھا اور (87 سال کہ بعد ) 120 کی عمر میں وہ فوت ہوئے۔اس 87 سال میں انہوں نے فلسطین یا روم سے کسی قسم کا رابطہ نہ رکھا۔انہوں نے ہجرت کشمیر کی طرف کی جب ان کی عمر 33 سال تھی لہذا فلسطین اور روم میں حضرت عیسی" کی نگرانی 33 سال کی عمر میں ختم ہوگئی اور اللہ تعالیٰ کی نگرانی شروع ہوگئی۔کیونکہ حضرت عیسی نے 33 سال کی عمر کہ بعد فلسطین اور روم سے کوئی رابطہ نہیں رکھا۔“ پمفلٹ " کیا احمدی / قادیانی جواب دے سکتے ہیں" صفحہ 7 تا 12 )