شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 563 of 670

شیطان کے چیلے — Page 563

559 1۔سید عبدالحفیظ نے لکھا ہے کہ بہشت سے کر ہ ارض کی طرف وو حضرت آدم سرزمین ہند میں سراندیپ کے پہاڑوں پر اور حضرت حواجدہ میں اتاری گئیں۔“ (مہاجر کون نہیں صفحہ 9) سوال یہ ہے کہ دونوں کو الگ الگ اور مختلف جگہوں پر کیوں اتارا گیا ؟ اگر بہشت ماڈی چیز ہے اور آسمانوں میں ہے تو یہ بہشت سے کرہ ارض پر اترے کیسے؟ کس زمانہ میں اترے؟ حضرت آدم ہندوستان سے جدہ تک یا تو اجدہ سے ہندوستان تک کیسے پہنچیں۔حضرت آدم کو جدہ کی سمت کا اور ھو اکوسراندیپ کی سمت کا علم کیسے ہوا؟ جناب سید عبدالحفیظ صاحب ! شاید آپ لوگوں کے معروف عیسائی منجم ” ڈاکٹر ڈیوڈ مکناٹن آپ کو کچھ بتا سکیں لیکن ان سوالوں کے جواب آپ کے ذمہ ہیں۔نیز یہ بھی بتائیں کہ جنت کے بارہ میں تو آتا ہے۔عَطَاءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ (عود: 109) کہ یہ ایک ایسی عطاء ہے جو کائی نہیں جائے گی۔تو حضرت آدم اور حوا سے کیا خدا تعالیٰ نے اپنے قول کے خلاف یہ عطا چھین لی ؟ 2 سید عبدالحفیظ نے سورۃ الزمر کی آیت نمبر 43، اللهُ يَتَوَفَّى الْأَنْفُس کا یہ ترجمہ تحریر کیا ہے۔اللہ قبض کر لیتا ہے روحوں کو ان کے مرنے کے وقت اور جو مرے نہیں ہیں ان کی روحیں ان کے سوتے وقت تو جن کی نسبت موت کا فیصلہ ہو چکا ہے ان کو روک لیتا ہے اور باقی سونے والوں کو ایک وقت مقررہ تک چھوڑ دیتا ہے۔“ قرآن کریم میں حضرت عیسی علیہ السلام کے لئے بھی مُتَوَفِّيْک اور تَوَفَّيْتَنِی کے کلمات آئے ہیں جن کا مادہ اور باب وہی ہے جو يَتَوَفَّی کا ہے۔اس کے پیش نظر سوال یہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی توئی۔موتھا کی صورت میں ہے یا منامها کی صورت میں؟ کیونکہ توفی کی تیسری صورت تو کوئی بھی نہیں (ہم اللہ کو کیوں مانیں صفحہ 58) ہے۔اپنی کتاب ” ہم اللہ کو کیوں مانیں کا صفحہ 171 دیکھیں۔وفات کی یہی دو قسمیں ہیں قف 3 سید عبدالحفیظ نے آیت کریمہ كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتِ ، ثُمَّ إِلَيْنَا تُرْجَعُوْنَ۔(ابوت :58 ) کا ترجمہ یہ لکھا ہے