شیطان کے چیلے — Page 558
554 دنیا کے۔شریعت ان سے ساقط ہو جاتی ہے کیونکہ شریعت ہو یا دنیاوی قانون اس کا اطلاق دیوانے پر نہیں ہوتا۔ایسے اہل اللہ و خاصان خدا درس و تدریس کے مرحلے سے گذر جاتے ہیں۔راہ سلوک کا یہ انتہائی مقام ہے جسے فنافی اللہ بھی کہتے ہیں۔“ الفتوى نمبر 23 جنوری 2000) شاید یہ اس کی اپنی حالت ہو جو اس تحریر کے آئینہ میں دوسروں کو بھی دکھانا چاہتا ہے۔وہ نہ دین کے قابل ہے نہ دنیا کے اور شریعت بھی اس سے ساقط ہوگئی ہے لیکن قبل اس کے کہ ہم شریعت کے سقوط پر بحث کریں، اس مذکورہ بالا تحریر کی مناسبت سے پیران پیر حضرت سید شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک واقعہ، ہدیہ قارئین کرتے ہیں۔ایک دفعہ سید عبد القادر رحمتہ اللہ علیہ کو شیطان اپنے زریں تخت پر دکھائی دیا اور کہا کہ میں تیرا خدا ہوں۔میں نے تیری عبادت قبول کی۔اب تجھے عبادت کی ضرورت نہیں رہی۔جو چیزیں اب اوروں کے لئے حرام ہیں وہ سب تیرے لئے حلال کر دی گئی ہیں۔سید عبدالقادر رحمۃ اللہ علیہ نے جواب دیا کہ دور ہو اے شیطان ! جو چیزیں آنحضرت ﷺ پر حلال نہ ہوئیں وہ مجھ پر کیسے حلال ہوگئیں؟ پھر شیطان نے کہا کہ اے عبدالقادر ! تو میرے ہاتھ سے علم کے زور سے بچ گیاور نہ اس مقام پر کم لوگ بچے ہیں۔یہ تو ہوسکتا ہے کہ کم علم والے کچھ پیر عبدالحفیظ کی ترغیب سے اپنے آپ سے شریعت کو ساقط سمجھیں مگرا کثر لوگ اس سے ضرور بچ جائیں گے۔انشاء اللہ آنحضرت ﷺ کی یہ پیشگوئی کیسی سچی اور حقیقت افروز ہے کہ آپ نے فرمایا: لوگ جاہلوں کو اپنا مقتدا بنالیں گے اور ان سے ( مسائل ) دریافت کئے جائیں گے تو وہ علم کے بغیر ( بلا جھجک ) فتوے جاری کریں گے۔یوں خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ بنائیں گے۔“ ( بخاری کتاب العلم باب کیف یقبض العلم۔۔۔ترجمه از بخاری شریف مترجم مطبوعہ حامد اینڈ کمپنی۔لاہور ) سید عبدالحفیظ نے اس عبارت میں اہل اللہ اور فنافی اللہ کا جو فلسفہ بیان کیا ہے وہ شریعت محمدیہ سے فرار کا ایک بہانہ ہے اور دوسروں کو گمراہ کرنے کے لئے ایک چکمہ ہے۔اب ذرا اس کی اس عبارت کو ملاحظہ کریں کہ وو شریعت ان سے ساقط ہو جاتی ہے کیونکہ شریعت ہو یا دنیاوی قانون اس کا اطلاق دیوانے پر نہیں ہوتا۔“ الفتوی نمبر 23 جنوری 2000)