شیطان کے چیلے — Page 524
520 ہے تو ہم یہیں مریں گے۔ہم ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔اس وقت جب اللہ تعالیٰ نے فتح عطا فرمائی تو فوج کے لوگ ہی نہیں بڑے بڑے علماء اور مشائخ بھی بول اٹھے کہ اس کو کہتے ہیں مرد میدان اور یہ ہے جہاد۔چنانچہ الحاج مولانا عرفان رشدی صاحب داعی مجلس علمائے پاکستان اپنی کتاب ” معرکہ حق و باطل “ کے صفحہ 73 پر لکھتے ہیں : کر رہا تھا غازیوں کی کماں عبدالعلی جب تھا صفوں میں مثل طوفان رواں عبدالعلی کل تک تو عبد العلی مثل طوفانِ رواں تھا ، آج راشد علی وغیرہ کی رگوں میں جھوٹ مثلِ شیطانِ لعیں جاری ہو گیا ہے اور انہیں کوئی احساس نہیں ہے ، کوئی حیا نہیں ہے، کوئی خیال نہیں ہے کہ ہم کیا کہہ رہے ہیں ،کس کے خلاف جھوٹ پر جھوٹ اگل رہے ہیں۔پس تاریخ گواہ ہے کہ جماعت احمدیہ کے افراد جس جس ملک میں مقیم ہیں، نمایاں طور پر اس کے وفادار اور محب وطن شہری ہیں اور راشد علی اور اس کے پیر کا الزام جاسوسی محض ایک بے باک سفید جھوٹ کے سوا اور کچھ نہیں۔آخر میں صرف ایک تاریخی حقیقت سے پردہ اٹھایا جارہا ہے تا کہ حتمی طور پر واضح ہو جائے کہ راشد علی اور اس کی قماش کے لوگ ایک طرف تو سچائی پر پردے ڈالتے ہیں اور دوسری طرف بڑی بے باکی سے جھوٹ پر جھوٹے اگلتے چلے جاتے ہیں۔یہ ان لوگوں پر جاسوسی اور غداری کا جھوٹا الزام لگاتے ہیں جو اپنے اپنے ملک کے سچے وفادار ، محب وطن اور خدمت گزار شہری ہیں۔لیکن ان لوگوں کا نام نہیں لیتے جو حقیقت دوسری طاقتوں کے کھلے کھلے آلہ کار اور اسلامی مفادات کے سودے کرنے والے تھے۔چنانچہ ملاحظہ فرمائیں سر مجلس احرار کا قیام کیسے عمل میں آیا۔اس کا پستہ ایک مشہور کتاب سے لگتا ہے جس کا نام "FREEDOM MOVEMENT IN KASHMIR" ہے۔یہ کتاب جس کے مصنف کا نام غلام حسن خان ہے، ہندوستان سے لائٹ اینڈ لائف پبلشر نیو دہلی نے 1980 ء میں شائع کی ہے۔اس میں 1931 ء سے 1940 ء تک کے عرصہ میں تحریک کشمیر کا تفصیلی ذکر کیا گیا ہے۔مصنف نے مجلس احرار کے قیام کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے: