شیطان کے چیلے — Page 521
517 رہے ہیں ! جماعت کے بارہ میں کل تک لوگ یہ کہہ رہے تھے اور آج ابلیس کے چیلے احمدیوں کو جاسوس ٹھہرا جسٹس منیر ، باونڈری کمیشن میں شامل تھے۔چنانچہ 1953ء میں تحقیقاتی عدالت میں جب مخالفین سلسلہ کی طرف سے یہ سوال اٹھائے گئے کہ گورداس پور کے بارہ میں چوہدری صاحب نے یہ کہا، کشمیر کے معاملہ میں یہ کہا فلسطین کے مسئلہ پر یہ کہا تو جسٹس منیر پوری تحقیق کے بعد لکھتے ہیں : چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے مسلمانوں کی نہایت بے غرضانہ خدمات سرانجام دیں اس کے باوجود بعض جماعتوں نے عدالتی تحقیقات میں ان کا ذکر جس انداز میں کیا ہے وہ قابلِ شرم ناشکرے پین کا ثبوت ہے۔“ (صفحہ 209۔منیر انکوائری رپورٹ ) حکیم احمد دین صدر جماعت المشائخ سیالکوٹ نے اپنے رسالہ ” قائد اعظم“ بابت ماہ جنوری 1949ء میں لکھا: اس وقت تمام مسلم جماعتوں میں سے احمدیوں کی قادیانی جماعت نمبر اول پر جا رہی ہے۔وہ قدیم سے منظم ہے ، نماز روزہ وغیرہ امور کی پابند ہے۔یہاں کے علاوہ ممالک غیر میں بھی اس کے مبلغ احمدیت کی تبلیغ میں کامیاب ہیں۔قیام پاکستان کے لئے مسلم لیگ کو کامیاب بنانے کے لئے اس کا ہاتھ بہت کام کرتا تھا۔جہاد کشمیر میں مجاہدین آزاد کشمیر کے دوش بدوش جس قد راحمدی جماعت نے خلوص اور درد دل سے حصہ لیا ہے اور قربانیاں کی ہیں ہمارے خیال میں مسلمانوں کی کسی دوسری جماعت نے بھی ابھی تک ایسی جرات اور پیشقدمی نہیں کی۔ہم ان تمام امور میں احمدی بزرگوں کے مداح اور مشکور ہیں اور دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں ملک و ملت اور مذہب کی خدمت کرنے کی مزید توفیق بخشے۔“ اور اس وقت افواج پاکستان کے جو کمانڈر انچیف تھے انہوں نے فرقان فورس (احمدی مجاہدوں پر مشتمل فورس ، جس میں سب رضا کاراپنے خرچ پر فوجی خدمات سرانجام دے رہے تھے، کوئی تنخواہ دار نہیں تھا کو نہایت ہی شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا اور فرقان بٹالین کے نو جوانوں کو ایک سرٹیفکیٹ جاری کیا جس میں ان کی خدمات کا شاندار الفاظ میں ذکر کیا۔یہ ایک لمبا سرٹیفکیٹ ہے اس میں انہوں نے لکھا: