شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 519 of 670

شیطان کے چیلے — Page 519

515 وہ لکھتے ہیں : یہ ان دنوں کی بات ہے جب 1948ء میں ارض مقدسہ کا ایک حصہ کاٹ کر صیہونی حکومت کے سپر د کر دیا گیا تھا اور اسرائیلی سلطنت قائم ہوئی تھی اور میرا خیال ہے کہ مذکورہ بالا سفارتخانہ کا یہ اقدام در حقیقت ان دوٹریکٹوں کا عملی جواب تھا جو تقسیم فلسطین کے موقع پر اسی سال جماعت احمدیہ نے شائع کئے تھے۔ایک ٹریکٹ کا عنوان ” هيئة الامم المتحدة وقرار تقسیم فلسطین “ تھا جس میں مغربی استعماری طاقتوں اور صیہونیوں کی ان سازشوں کا انکشاف کیا گیا تھا جن میں فلسطینی بندرگاہوں کے یہودیوں کو سپر د کر دینے کا منصوبہ بنایا گیا تھا۔دوسرا ٹریکٹ الکفر ملة واحدة “ کے عنوان سے شائع ہوا تھا جس میں مسلمانوں کو کامل اتحاد اور اتفاق رکھنے کی ترغیب دی گئی تھی۔یہ وہ واقعہ ہے جس کا مجھے ان دنوں ذاتی طور پر علم ہوا تھا اور مجھے پورا یقین ہے کہ جب تک احمدی لوگ مسلمانوں کی جماعت میں اتفاق پیدا کرنے کی کوشش کرتے رہیں گے جن سے استعماری طاقتوں کی پیدا کردہ حکومت اسرائیل کو ختم کرنے میں مددمل سکے تب تک استعماری طاقتیں بعض لوگوں اور فرقوں کو اس بات پر آمادہ کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں گی کہ وہ احمدیوں کے خلاف اس قسم کی نفرت انگیزی اور نکتہ چینی کرتے رہیں تا کہ مسلمانوں میں اتحاد نہ ہو سکے۔“ (اخبار الانباء " - بغداد۔مورخہ 12 ستمبر 1954 ء) الغرض حضرت المصلح الموعود رضی اللہ عنہ کے دوٹریکٹ شائع ہوئے اور ان کا اتنا حیرت انگیز اثر پڑا کہ بڑی بڑی استعماری طاقتیں کانپ گئیں اور سفارت خانوں کو ان کے مراکز سے ہدائتیں ملنے لگیں کہ اخباروں کو پیسے دو اور ان سے تعلقات قائم کرو اور جس طرح بھی ہو احمدیوں کے خلاف ایک تحریک چلاؤ۔مجلس احرار کا ایک اخبار زمزم ہوا کرتا تھا جو جماعت کی مخالفت کے لئے وقف تھا بایں ہمہ تقسیم ملک سے پہلے جب مصر کے بعض مفادات کو خطرہ لاحق ہوا تو حضرت مصلح موعود نور اللہ مرقدہ نے اس کے متعلق جو جد وجہد فرمائی اس سے متاثر ہو کر یہ احراری اخبار اپنی 19 جولائی 1942ء کی اشاعت میں رقم طراز ہے: وو موجودہ حالات میں خلیفہ صاحب نے مصر اور حجاز مقدس کے لئے اسلامی غیرت کا جو ثبوت دیا ہے وہ یقیناً قابل قدر ہے اور انہوں نے اس غیرت کا اظہار کر کے مسلمانوں کے جذبات کی صحیح ترجمانی کی۔