شیطان کے چیلے — Page 516
512 تھے۔ایک طرف حملوں کے امتداد کی یہ حالت تھی کہ ساری مسیحی دنیا اسلام کی شمع عرفانی کو سر راہِ منزل مزاحمت سمجھ کے مٹادینا چاہتی تھی اور عقل و دولت کی زبر دست طاقتیں اس حملہ آور کی پشت گری کے لئے ٹوٹی پڑتی تھیں اور دوسری طرف ضعف مدافعت کا یہ عالم تھا کہ تو پوں کے مقابلہ پر تیر بھی نہ تھے اور حملہ اور مدافعت دونوں کا قطعی وجود ہی نہ تھا کہ مسلمانوں کی طرف سے وہ مدافعت شروع ہوئی جس کا ایک حصہ مرزا صاحب کو حاصل ہوا۔اس مدافعت نے نہ صرف عیسائیت کے اس ابتدائی اثر کے پر خچے اڑائے جو سلطنت کے سایہ میں ہونے کی وجہ سے حقیقت میں اس کی جان تھا اور ہزاروں لاکھوں مسلمان اس کے اس زیادہ خطرناک اور مستحق کامیابی حملہ کی زد سے بچ گئے بلکہ خود عیسائیت کا طلسم دھواں ہو کر اڑنے لگا۔۔غرض مرزا صاحب کی یہ خدمت آنیوالی نسلوں کو گر انبار احسان رکھے گی کہ انہوں نے قلمی جہاد کرنے والوں کی پہلی صف میں شامل ہو کر اسلام کی طرف سے فرض مدافعت ادا کیا اور ایسا لٹریچر یادگار چھوڑا جو اس وقت تک کہ مسلمانوں کی رگوں میں زندہ خون رہے اور حمایت اسلام کا جذبہ ان کے شعار قومی کا عنوان نظر آئے ، قائم رہے گا۔“ کے قانون اخبار وکیل امرتسرمئی 1908 ء بحوالہ ” بدر قادیان 18 جون 1908ء صفحہ 2 ، 3) پس مغربی اقوام کو خطرہ ہے تو اس حقیقی اسلام سے جو جماعت احمدیہ پیش کرتی ہے۔جو خدا تعالیٰ أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا (الرعد: 42) ترجمہ:۔کیا وہ دیکھتے نہیں کہ ہم زمین کو اس کی تمام اطراف سے کم کرتے چلے آ رہے ہیں۔کے تحت عیسائیت کی زمین کم ہوتی چلی جارہی ہے اور احمدیت کے قبضہ میں چلی آرہی ہے۔اب تو کروڑوں افراد ہر سال عیسائیت کو خیر باد کہہ کر احمدیت کے ذریعہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے دامن سے وابستہ ہور ہے ہیں۔یہ خطرہ ہے جو مغربی اقوام کو ہے لیکن راشد علی اور اس کا پیر بھی اس خطرہ سے باہر نہیں کیونکہ ان لوگوں کی زمین کے کنارے بھی بڑی سرعت سے احمدیت کے دامن میں گر رہے ہیں اور ہر سال کروڑوں مسلمان بھی مسیح زماں اور مہدی دوران کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس سے وابستہ ہوتے ہیں۔اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ راشد علی اور اس کا پیر اور ان کے ہم رنگ مولوی جب جماعت کے خلاف غلیظ اور