شیطان کے چیلے

by Other Authors

Page 515 of 670

شیطان کے چیلے — Page 515

511 ہندوستان کی برطانوی مملکت میں ایک نئی طرز کا اسلام ہمارے سامنے آ رہا ہے۔۔۔اس نئے اسلام کی وجہ سے محمد کو پھر وہی پہلی سی عظمت حاصل ہوتی جا رہی ہے یہ نئے تغیرات بآسانی شناخت کئے جاسکتے ہیں۔پھر یہ نیا اسلام اپنی نوعیت میں مدافعانہ ہی نہیں بلکہ جارحانہ حیثیت کا حامل بھی ہے۔افسوس ہے تو اس بات کا کہ ہم میں سے بعض کے ذہن اس کی طرف مائل ہو رہے ہیں۔برصغیر پاک و ہند کے ایک نامور عالم جناب مولانا نورمحمد صاحب نقشبندی چشتی مالک اصبح المطابع دہلی نے اسلام کی عیسائیت کے مقابل اس نمایاں فتح کا ذکر نہایت ولولہ انگیز اور پر جوش الفاظ میں فرمایا ہے جس سے اس زبر دست معرکہ کی حقیقی عظمت کا پتہ چلتا ہے آپ نے فرمایا: وو اسی زمانہ میں پادری لیفر ائے پادریوں کی ایک بہت بڑی جماعت لے کر اور حلف اٹھا کر ولایت سے چلا کہ تھوڑے عرصہ میں تمام ہندوستان کو عیسائی بنالوں گا۔ولایت کے انگریزوں سے روپیہ کی بہت بڑی مدد اور آئندہ کی مدد کے مسلسل وعدوں کا اقرار لیکر ہندوستان میں داخل ہو کر بڑا تلاطم برپا کیا حضرت عیسی کے آسمان پر بجسم خاکی زندہ موجود ہونے اور دوسرے انبیاء کے زمین میں مدفون ہونے کا حملہ عوام کے لئے اس کے خیال میں کارگر ہوا تب مولوی غلام احمد قادیانی کھڑے ہو گئے اور اس کی جماعت سے کہا کہ عیسیٰ جس کا تم نام لیتے ہو دوسرے انسانوں کی طرح سے فوت ہو کر دفن ہو چکے ہیں اور جس عیسی کے آنے کی خبر ہے وہ میں ہوں پس اگر تم سعادت مند ہو تو مجھے کو قبول کرلو۔اس ترکیب سے اس نے لیفر ائے کو اس قدرتنگ کیا کہ اس کو پیچھا چھڑانا مشکل ہو گیا اور اس ترکیب سے اس نے ہندوستان سے لے کر ولایت تک کے پادریوں کو شکست دے دی۔“ (دیباچہ قرآن۔صفحہ 30 از حافظ نورمحمد نقشبندی پشتی اصبح المطابع دبلی) اسی طرح برصغیر کے ایک ممتاز اور مشہور دینی راہنما مولانا ابوالکلام صاحب آزاد نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام کی وفات پر اپنے اخبار ” وکیل میں آپ کو زبر دست خراج تحسین ادا کیا اور آپ کو اسلام کا فتح نصیب جرنیل قرار دیتے ہوئے لکھا: وو وہ وقت ہر گز لوح قلب سے نسیا منسیا نہیں ہو سکتا جبکہ اسلام مخالفین کی یورشوں میں گھر چکا تھا اور مسلمان جو حافظ حقیقی کی طرف سے عالم اسباب و وسائط میں حفاظت کا واسطہ ہو کر اس کی حفاظت پر مامور تھے اپنے قصوروں کی پاداش میں پڑے سسک رہے تھے اور اسلام کے لئے کچھ نہ کرتے تھے یا نہ کر سکتے