شیطان کے چیلے — Page 504
500 میرے اور میرے اصحاب کے طریقہ پر ہوں گے۔“ اس کے بعد ترجمان القرآن لکھتا ہے : یہ گروہ نہ کثرت میں ہو گا نہ اپنی کثرت کو اپنے برحق ہونے کی دلیل ٹھہرائے گا بلکہ اس امت کے تہتر فرقوں میں سے ایک ہوگا۔اور اس معمور دنیا میں اس کی حیثیت اجنبی اور بیگانہ لوگوں کی ہوگی جیسا کہ فرمایا "بدا الاسلام غريباً وسيعو د غريباً كما بدا فطوبى للغرباء۔ایک ہمارا فرقہ رہ گیا ہے جس کو آج یہ حیثیت حاصل ہے اجنبی اور بیگانہ ہونے کی مگر اللہ کی شان دیکھیں کس طرح ان کے منہ سے حق کہلوا دیا اور ان لعنتیں ڈالنے والوں کی طرف سے خدا نے آپ کو دعائیں دلوا دیں۔خدا کی تقدیر نے زبر دستی ان کے منہ سے آپ کو رحمتیں دلوا دیں۔ان کو تسلیم کرنا پڑا اور حدیث نبوی یاد آئی تو یہ لوگ حق کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے۔پس جیسا کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا اسلام غربت سے شروع ہوا تھا پھر غریب ہو جائے گا۔جیسا کہ پہلے غریب تھا فطوبى للغرباء پس خوشخبریاں اور مبارکیں ہوں ان غرباء کو جو آخری زمانہ میں اسلام کی خاطر غریب الوطن ہو جائیں گے اور غریب کہلائیں گے۔اسی حوالے میں ترجمان القرآن آخر میں لکھتا ہے : وو پس جو جماعت محض اپنی کثرت تعداد کی بناء پر اپنے آپ کو وہ جماعت قرار دے رہی ہے جس پر اللہ کا ہاتھ ہے۔اس کے لئے تو اس حدیث میں امید کی کوئی کرن نہیں کیونکہ اس حدیث میں اس جماعت الله کی دو علامتیں نمایاں طور پر بیان کر دی گئی ہیں ایک تو یہ کہ وہ آنحضرت ﷺ اور آپ کے صحابہ کے طریق پر ہو گی دوسری یہ کہ نہایت اقلیت میں ہوگی۔“ ترجمان القرآن۔ستمبر، اکتوبر 1945ء - صفحہ 175 176 جلد 27 شماره 4،3 مرتبہ سید ابوالاعلی مودودی) پاکستان پر ٹوٹنے والی قیامت اب اس بات کو اچھی طرح ملحوظ رکھ لیں کہ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں جب امت مسلمہ بہتر فرقوں میں تقسیم ہو جائے گی اور ایک تہتر ویں جماعت پیدا ہوگی اور وہ حق پر ہوگی تو بہتر فرقے لازما جھوٹے ہوں گے۔کیونکہ بچے ناری نہیں کہلا سکتے۔ایک ہی جماعت سچی ہے اور اسے جماعت قرار دیا ہے۔کل تک جماعت احمدیہ کے تمام مخالفین خواہ سنی تھے خواہ شیعہ تھے اس حدیث کی صحت کے نہ صرف قائل تھے بلکہ وہابیہ